.

غزہ پٹی: اسرائیلی فضائیہ کا خان یونس کی بندرگاہ پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے طیاروں نے پیر کو علی الصبح غزہ پٹی کے جنوب میں "خان يونس" کی نئی بندرگاہ پر چار میزائل داغے۔

اسی طرح اسرائیلی طیاروں نے غزہ پٹی کے جنوب میں ہی حماس تنظیم کے ٹھکانے پر ایک میزائل داغا ... اس کے علاوہ صہیونی فوج نے غزہ پٹی کے شمال میں زمینی نگرانی کے ایک چیک پوائنٹ پر توپ سے گولہ باری کی۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو 2 مارچ کو پارلیمنٹ کے 23 ویں انتخابات سے قبل غزہ پٹی میں ایک وسیع فوجی آپریشن کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

ادھر فلسطینی صدر محمود عباس آج پیر کے روز نیویارک روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ تنظیم آزادی فلسطین کی جانب سے تیار کی گئی ایک دستاویز اقوام متحدہ کے حوالے کریں گے۔ ایک فلسطینی عہدے دار کے مطابق دستاویز میں مشرق وسطی کے لیے امریکی امن منصوبے میں شامل ،،، بین الاقوامی قوانین کی 300 "خلاف ورزیوں" پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ منگل کے روز فلسطینیوں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے خلاف ایک قرار داد سلامتی کونسل میں رائے شماری کے لیے پیش کی جائے گی۔

فلسطینی دستاویز میں حوالہ دیا گیا ہے کہ ٹرمپ امن منصوبے میں شامل خلاف ورزیاں مسئلہ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ضرر پہنچاتی ہیں۔ ان میں اہم ترین خلاف ورزی کا تعلق بیت المقدس سے ہے۔ اس لیے کہ اسرائیل کو بیت المقدس پر خود مختاری کے حوالے سے کوئی حق حاصل نہیں اور عالمی برادری نے بھی اس کے ضم کیے جانے کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہودی بستیوں کی آباد کاری، سیکورٹی، پناہ گزینوں کے حقوق اور فلسطینی قیدیوں کا معاملہ شامل ہے۔

اسی طرح دستاویز میں فلسطینی خود مختاری، غزہ پٹی، قدرتی وسائل اور معیشت سے متعلق خلاف ورزیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کے اعلان کے بعد سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جمعرات کو علی الصبح بیت المقدس میں نامعلوم شخص نے گاڑی سے روند کر 14 افراد کو زخمی کر دیا جن میں 12 اسرائیلی فوجی تھے۔ اسی روز اسرائیلیوں کے ساتھ جھڑپوں میں دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے جب کہ اسرائیلی پولیس اہل کاروں پر حملہ کرنے والے ایک اسرائیلی عرب کو پولیس نے موت کی نیند سلا دیا۔ جمعے کے روز مغربی کنارے کے شمال میں جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔