.

سعودی عرب میں ماہ صیام کے دوران ہوٹل کھولنے کے لیے نئے احکامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ملک میں جاری کرونا بحران کے دوران وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کےلیے ماہ صیام کی مناسبت سے نئے حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ماہ صیام کے دوران ملک بھر میں محدود پیمانے پر ہوٹل کھولنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم تقریبات منعقد کرنے والے ہوٹلوں کو اجازت ںہیں دی گئی۔ ماہ صیام کے موقعے پر سخت طبی حفاظتی تدابیر کے تحت ہوٹلوں کو شام تین بجے سے صبح تین بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تمام ہوٹل مالکان اور کیٹرنگ سروس فراہم کرنے والے کارباری حضرات کو شہریوں کی صحت اور کرونا وبا کے عرصے میں سخت طبی حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدیات کی گئی ہے۔

منگل کے روز سعودی وزارت داخلہ نے شہروں کے درمیان سفر کرنے کے اوقات کا بھی تعین کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق کرفیو والےعلاقوں کے سوا دیگر شہروں میں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک احتیاطی تدابیر کے ساتھ سفر کی اجازت دی گئی ہے۔

قبل ازیں الحرمین الشریفین کی جنرل پریذیڈینسی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں عام عبادت گزاروں کے داخلے پر پابندی برقرار رہے گی۔

پریزیڈینسی کے صدر ڈاکٹر شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے منگل کو یہ اعلان کیا تھا کہ الحرمین الشریفین میں اجتماعی نمازتراویح ادا کی جائے گی مگر دونوں مساجد میں اتھارٹی کے ملازمین اور ورکر ہی نماز تراویح ادا کرسکیں گے۔یہ پانچ تسلیمات تک محدود ہوں گی،دو دو رکعت ادا کی جائیں گی، یعنی صرف دس رکعت نمازادا کی جائیں گی۔

جنرل پریزیڈینسی برائے امور الحرمین الشریفین کے ترجمان ہانی بن حسنی حیدر نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے رمضان المبارک میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔

اس منصوبہ کے تحت دونوں مساجدمیں عبادت گزاروں کے داخلے پر پابندی برقرار رہے گی،صفائی اور اسپرے کے عمل کو بڑھا دیا جائے گا،نماز جنازہ میں شرکت یا میتیں لانے والوں اور تمام ملازمین کی تھرمل ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

رمضان المبارک کے دوران میں مسجدالحرام اور مدینہ منورہ میں افطار کی ذمے داری مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے صوبائی حکام کو سونپی گئی ہے۔ وہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے روزے داروں میں افطار کے کھانے تقسیم کریں گے۔

دونوں مقدس مساجد میں اعتکاف کی اجازت نہیں ہوگی۔ان میں صرف ضروری ملازمین کو داخلے کی اجازت ہوگی اور پیشگی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرکے مرمت کا ضروری کام کیا جائے۔