.

کرفیو میں نرمی کا یہ مطلب نہیں کہ کرونا کا خطرہ ٹل گیا ہے: سعودی وزیر صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر صحت توفیق الربیعہ نے کہا ہے کہ ملک میں کرفیو میں جزوی نرمی کا یہ مطلب نہیں کہ مملکت میں کرونا کی وبا کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود غیرملکی اور مقامی شہری سماجی دوری کے اصولوں پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کریں اور وزارت صحت کی طرف سے وضع کردہ طریقہ کار پرعمل کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں وزیرصحت کا کہنا تھا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے مملکت میں کرفیو میں نرمی کی گئی مگر کرونا کی بیماری خطرہ بدستورموجود ہے۔ کرونا وائرس نہ صرف پوری دنیا میں موجود ہے بلکہ سعودی عرب میں بھی پھیل رہا ہے۔ سعودی عرب کے تقریبا تمام شہر اس کی لپیٹ میں ہیں۔ سعودی شہریوں اور غیرملکی مقیم افراد کو بہت زیادہ احتیاط کرنا ہوگی۔

ادھر سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کرونا وائرس سے پانچ نئی اموات کی بھی تصدیق کی ہے جس کے بعد اب تک وفات پانے والوں کی تعداد 144 ہوگئی ہے۔

انھوں نے سوموار کو نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ جدہ میں 294 ، مکہ مکرمہ میں 218 ، مدینہ منورہ میں 202 ، الریاض میں 178،بیش میں 126 اور الجبیل میں 107 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔باقی کیس الخبر ، الدمام ، الہفوف اور دوسرے شہروں اور صوبوں میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں کرونا وائرس کا شکار مریضوں کا سراغ لگانے کے لیے فیلڈ ٹیسٹنگ کا عمل تیز کردیا ہے اوربڑے شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں گھر گھر جا کر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے کرونا کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہا ہے۔

ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے بتایا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں اب تک قریباً 10 لاکھ افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ان میں 18811 کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ان میں بھی 2531 صحت یاب ہوچکے ہیں اور باقی اسپتالوں یا طبی مراکز میں زیرعلاج ہیں یا انھیں گھروں میں یا قرنطینہ مراکز میں رکھا جارہا ہے۔