.

ایرانی جزیرے چین کو دینے کے اجازت نہیں دیں گے: رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے ایک سینیر رکن محمود احمدی بیگش نے کہا ہے کہ حکومت نے چین کے ساتھ طے پائے 25 سالہ معاہدے کے تحت بیجنگ کو ایرانی جزیرے دینے کا اعلان کیا ہے مگر پارلیمنٹ میں اس معاہدے پر بحث جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایرانی جزیرے کسی صورت میں چین کو دینےکی اجازت نہیں دیں گے۔

بیگش نے ہفتے کے روز ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اصل میں اس کا مقصد یہ نہیں ان جزیروں کو چین کے حوالے کر دیا جائے گا لیکن فیصلہ کیا گیا تھا کہ ان جزیروں پر چین کو مکمل اختیارات دیئے جائیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہوگا۔"

"ایران اور چین کے درمیان 25 سال سے اسٹریٹجک تعاون کی دستاویز" کے مطابق گذشتہ دنوں کے دوران ایران نے خلیج عرب میں جزیرے کیش سمیت متعدد جزیروں کو چین دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ایرانی سیاسی ، ابلاغی اور عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

معاہدے کے مندرجات کے بارے میں ایرانی حکومت کے عہدیداروں کی طرف سے شفافیت کا فقدان سامنے آیا ہے جس کے اہداف پر سخت عوامی ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت چین کو جزیرے دینے کے بارے میں اطلاعات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران یا کسی اور ملک کو ایران کا ایک انچ علاقہ نہیں دیں گے ۔ ایرانی ایکسپیڈیسی کونسل کے ممبر غلام رضا مصباحی مقدم نے تصدیق کی ہے کہ چین کے ساتھ متنازعہ معاہدہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ترغیب اور ہدایت پر ہوا ہے۔ انہوں‌ نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ایلچی کو بیجنگ بھیجا تھا۔

معاہدے کی افشاء کی جانے والی شقوں نے وسیع پیمانے پر تنازعہ کھڑا کیا ہے۔ ان میں پیراگراف موجود ہیں جن میں چین کو جزیرے ، فوجی اور ہوائی اڈے دینے کے بدلے میں چین نے ایران کے تمام معاشی ، سیکیورٹی اور فوجی شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے علاوہ چین ایران سے خام مال خریدنے کے لیے تہران کو رقم ادا کرے گا۔