بیروت دھماکے:حکومت کی نااہلی کے خلاف لبنانیوں کے احتجاجی مظاہرے

مشتعل نوجوانوں کی پارلیمان کی عمارت کے باہر سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں،ایک دروازہ اکھاڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 4 اگست کو بندرگاہ کے نزدیک تباہ کن دھماکے کے بعد حکومت کی ناگہانی صورت سے نمٹنے میں ناکامی کے خلاف سیکڑوں افراد نے ہفتے کے روزے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

مظاہرین کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

العربیہ کے نمایندے کی اطلاع کے مطابق مشتعل مظاہرین نے بیروت کےو سط میں واقع پارلیمان کی عمارت کی جانب جانے والی شاہراہ پر کھڑی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی۔اس پر سکیورٹی فورسز نے انھیں روکنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے برسانے شروع کردیے۔

مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت کے باہر نصب ایک گیٹ کو ہٹا دیا۔ وہ صدر میشال عون اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔

لبنانی حکومت نے بیروت میں بندرگاہ پر ایک گودام میں تباہ کن زور دار دھماکے سے شہر میں ہونے والی تباہی کی تحقیقات شروع کررکھی ہے۔لبنانی حکام نے ان دھماکوں کے نتیجے میں ہفتے تک 158 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور چھے ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لبنانی وزیراعظم حسان دیاب کے بہ قول بندرگاہ پر واقع گودام میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ ذخیرہ تھی،اس کے پھٹنے سے شدید دھماکا ہوا تھا اور اس کی آواز کئی میل دور تک سنی گئی تھی۔لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ گودام میں ابتدا میں کیسے آگ بھڑک اٹھی تھی۔اس کے بعد زوردارھماکے نے آدھے بیروت شہر میں تباہی پھیلا دی تھی اور سیکڑوں بلند وبالا عمارتیں زمین بوس ہوگئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں