امارات مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کومضبوط بنانا چاہتا ہے:انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نےکہا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین مکمل دوطرفہ تعلقات کا آغاز امارات کی قیادت کا جرات مندانہ فیصلہ ہے۔
العربیہ ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئےانور قرقاش نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے کا الحاق ایک ایسا مسئلہ تھا جو خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتا تھا۔ ہم نے اسرائیل سے معاہدہ کر کے غرب اردن کے علاقوں کا الحاق روک دیا۔
وزير الدولة الإماراتي للشؤون الخارجية #أنور_قرقاش: اتفاقنا مع #إسرائيل ينزع فتيل أزمة ضم الأراضي الفلسطينية وينقذ حل الدولتين#العربية pic.twitter.com/rALgODoqwk
— ا لـ ـعـ ـر بـ ـيـ ـة (@AlArabiya) August 13, 2020
انہوں نے اشارہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات شروع کر دے گا۔ امارات کے فیصلے سے فلسطینیوں کو بھی فایدہ پہنچے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اماراتی فیصلے کا مقصد فلسطینیوں کی مدد کے لیے مواصلاتی چینلز تلاش کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات امن عمل میں دو ریاستی حل کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ابو ظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر الشیخ محمد بن زاید النہیان نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین مکمل دو طرفہ تعلقات کو شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
اماراتی قیادت کاکہنا ہے کہ اس تاریخی سفارتی کامیابی سے مشرق وسطی کے خطے میں امن میں اضافہ ہو گا۔ امریکی صدر، اسرائیلی وزیراعظم اور امارات کے ولی عہد نے تل ابیب اور ابو ظبی میں معاہدے کو جرات مندانہ اور حقیقی امن کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا۔