.

تہران میں امریکی سفارت خانے کے اطراف ماتمی جلوسوں اور امام بارگاہ میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران اور واشنگٹن کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی ، سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے فیصلے کو مسترد کرنے اور امریکا کی طرف سے ایران پر تمام پابندیوں کی بحالی اعلان کے بعد ایران میں ایک نیا انکشاف کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ایلنا کے مطابق باسیج ملیشیا نے تہران میں قائم امریکی سفارت خانے کے اطراف میں محرم کے مہینے میں ہونے والے ماتمی جلوسوں اور امام بارگاہ کے لیے جگہ تیار کی گئی ہے۔

ایرانی لیبر ایجنسی "ایلنا" کے مطابق افتتاحی تقریب "انصارالقائم" کمیٹی منعقد کرے گی جو ایرانی رہ نما علی خامنہ ای کے قریبی سخت گیرپریشر گروپوں میں سے ایک ہے اور ایرانی پارلیمنٹ میں ایک رکن نائب مرتضیٰ آغا کی سرپرستی میں کام کرتی ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران پاسداران انقلاب کی"پاسیج" ملیشیا بار بار ہم وائٹ ہاؤس کوامام بارگاہ میں تبدیل کرنے نعرہ مستانہ لگاتی رہی ہے۔

لیکن اس اعلان کو ایرانی سوشل میڈیا صارفین نے طنزیہ انداز میں بیان ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاسیج ملیشیا نے اپنی دھمکی کو واشنگٹن میں نہیں بلکہ سابق امریکی سفارت خانے کے سامنے تہران میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں پاسداران انقلاب نے تہران میں سابق امریکی سفارت خانے کی دیواروں پر نئے خاکے بنائے تھے۔

خاکوں میں پاسداران انقلاب نے امریکی ڈرون کو مار گرانے، میک ڈونلڈز کے ریستورانوں کی تصاویر کے ساتھ ڈالرز کو ایک خون کے دریا میں ڈوبتے دکھایا گیا جس میں ہرطرف کھوپڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ پیش کی تھیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 4 نومبر 1979 کو ایرانی شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے نو ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد،پاسداران انقلاب کے طلبا نے سفارتخانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین نے مفرور ہونے والے ایرانی بادشاہ کو ایران کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔