.

عراق میں راکٹ حملے حکومتی رِٹ کو سبوتاژ کر رہے ہیں : امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے اور بین الاقوامی اتحادی افواج کے خلاف جاری کیٹوشیا راکٹوں سے حملوں کا مقصد مصطفی الکاظمی کی سربراہی میں عراقی حکومت کی سیادت اور رِٹ کو تباہ کرنا ہے۔

جمعرات کے روز العربیہ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ٹولر نے واضح کیا کہ امریکی سفارت خانہ حکومت کے ساتھ ان حملوں کو زیر بحث لا رہا ہے تا کہ تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ان راکٹوں کے داغنے والوں کو روکا جا سکے۔

ایران کے حوالے سے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ ایران عراقی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ ہم بیرونی ایجنڈوں کے وجود پر یقین رکھتے ہیں جن کا مقصد عراق کو کمزور کرنا ہے۔

میتھیو ٹولر کے مطابق امریکی افواج کی عراق میں موجودگی کا مقصد حکومت کی خود مختاری اور قانون کی بالا دستی یقینی بنانے میں اس کی مدد کرنا ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ "ہم عراق میں امریکا کے مستقل وجود کے لیے کوشاں نہیں ہیں بلکہ حالات سازگار ہونے پر اس وجود کو کم کرنے کے لیے کام کر ہے ہیں"۔

میتھیو ٹولر نے زور دے کر کہا کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی حکومت کی دعوت کے ساتھ وابستہ ہے جو 2013ء میں داعش تنظیم کے خلاف لڑائی کے سلسلے میں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے انخلا کے نتیجے میں داعش تنظیم ایک بار پھر نمودار ہو جائے ،، اور یہ معاملہ ہم عراقی افواج کے ساتھ زیر بحث لا رہے ہیں"۔

امریکی سفیر کے مطابق ان کا ملک عراقی حکومت کی جانب سے بدعنوان عناصر اور مظاہرین پر حملہ کرنے والوں کے احتساب کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح امریکا آزاد اور شفاف انتخابات کے اجرا کو بھی سپورٹ کرتا ہے جس میں عراقی عوام کا ہر طبقہ شریک ہو۔

میتھیو ٹولر نے بتایا کہ امریکا نے عراق میں 45 لاکھ پناہ گزینوں کو اپنے علاقوں میں واپسی میں مدد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا بدعنوانی میں ملوث افراد کے تعاقب کے علاوہ عراقی معیشت کو سپورٹ کرنے کے سلسلے میں عراقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں