.

لبنان: غیرقانونی طور پربحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش پر37 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غیر قانونی طور پر بحیرہ روم عبور کرنے کی ایک نئی کوشش کو روک کر ایک کشتی میں سوار 37 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر شامی باشندے شامل ہیں۔

حالیہ مہینوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد جن کی منزل جزیرہ قبرص ہے دوگنی ہو چکی ہے۔ تارکین وطن لبنان سے بحری راستے سے بھاگ کر قبرص کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اتوار کے روز لبنانی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے مسلح افواج نے الراکمین جزیرے سے لوگوں کو اسمگل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک کشتی کو روکا ہے جس پر 34 بچوں اور تین خواتین سمیت37 افراد تھے۔ ان میں شامی شہریوں کے علاوہ 2 لبنانی اور ایک فلسطینی بھی شامل ہے۔

بیان کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسی نے لبنانی شہری کو اسمگلنگ آپریشن منظم کرنے اور تیار کرنےکے الزام میں بھی گرفتار کیا۔

لبنان میں 15 لاکھ شامی مہاجرین ہیں جن میں سے ایک ملین اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان میں 174،000 سے زیادہ فلسطینی پناہ گزین ہیں جبکہ غیر سرکاری تخمینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد 500،000 کے قریب ہے۔

گذشتہ ایک سال سے لبنان اپنی جدید تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ کرونا کی وبا اور بیروت میں ہونے والے دھماکوں نے اس کی معیشت کو مزید نقصان سے دوچار کیا ہے۔