.

سعودی استاد نے علمی ذوق کی تسکین کے لیے گھر کی دیوار لائبریری میں کیسے بدلی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مصنف اور اسکول کے استاد نے مطالعے کے شوقین لوگوں کے لیے اپنے گھر کی بیرونی دیوار پر صندوق نصب کیا ہے تاکہ مطالعے کی غرض سے لوگ وہاں سے اپنی مرضی کی کتابیں اٹھ اسکیں اور اپنے پاس موجودکتابیں‌ دوسروں کے استفادے کے لیے وہاں‌ رکھ سکیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی سعودی عرب کی القطیف گورنری میں مقامی استاد حسن آل حمادہ نے پرندوں کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے علمی ذوق کی تسکین میں ان کی مدد کرنے کے لیے 23 سال قبل یہ صندوق نصب کیا۔ یہ صندوق کتابوں کے باہمی تبادلے کا ایک ٹھکانا ہے جہاں سے لوگ اپنی مرضی کی کتابیں مطالعے کی غرض سے اٹھاتے اور پڑھنے کے بعد واپس رکھ دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے آل حمادہ نے کہا کہ اس کے اس اقدام کا مقصد لوگوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا اور انہیں کتاب سے تعلق جوڑنے کی ترغیب دلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1997ء میں انہوں نے "أمة اقرأ... لا تقرأ: خطة عمل لترويج عادة القراءة" کےعنوان سے ایک کتاب تالیف کی۔ وہیں سے ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ لوگوں میں کتاب بینی کے شوق کے فروغ کے لیے ایسا کوئی منفرد کام کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو کتاب کے حصول میں آسانی میسر ہو۔

ایک سوال کے جواب میں آل حمادہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ کتاب سے تعلق جوڑنے کا میرا یہ طریقہ کامیاب رہا۔ میں یہ سلسلہ اپنی ذات کی حد تک نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایسا ہی علمی ذوق پیدا کرنے کا خواہاں ہوں۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ تین سال قبل میں نے اپنے گھر کی بیرونی دیوار کے باہر ایک صندوق نصب کرایا۔ یہ صندوق سعودی عرب کے قومی دن کے موقعے پر تیار کیا گیا۔ اس بار سعودی عرب کے 90ویں قومی دن کی مناسبت سے وہاں پر 90 مختلف کتابیں رکھی گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک 270 کتابیں مطالعے کے لیے قارئین میں تقسیم کر چکے ہیں۔

سعودی استاد کے 'عش الکتب'کے نام سے مطالعہ کتاب کے منفرد پروگرام پر بات کرتے ہوئے قارئین نے اسے غیرمعمولی طور پر سرہا ہے۔ بعض قارئین کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کتاب خرید کرنے کے لیے جیب میں پسیے نہیں تھے۔ حسن آل حمادہ نے انہیں مفت میں کتابیں فراہم کرکے ہمارے علمی ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آل حمادہ کاکہنا تھا کہ لوگ اپنے گھروں کے باہر پرندوں کو رکھنے کے لیے پنجرے لگا دیتے ہیں جن میں پرندوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔ لوگ ان پرندوں دانہ پانی ڈالتے اور ان کے پیٹ کا سامان کرتے ہیں۔ میں نے لوگوں کے علمی ذوق اور ان کی معلومات میں اضافے کے لیے کتابوں کا صندوق نصب کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں