.

یمن : قیدیوں کی پہلی کھیپ تبادلے کے لیے سیؤن شہر پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا اور آئینی حکومت کے قیدیوں کی پہلی کھیپ حضرموت صوبے کے شہر سیؤن پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم صلیبِ احمر نے تصدیق کی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی جلد شروع ہو جائے گی۔

قیدیوں کا یہ تبادلہ اس معاہدے کے تحت عمل میں آ رہا ہے جس پر فریقین نے گذشتہ ماہ ستمبر کے اواخر میں سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے تھے۔ یمن آئینی حکومت میں قیدیوں کے امور کی کمیٹی کے سربراہ ہادی ہیج نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں تیاریاں اور لوجسٹک انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس موقع پر صنعاء، مارب اور سیؤن میں صلیبِ احمر تںظیم کے نمائندے موجود ہوں گے۔ قیدیوں کو دو کھیپوں کے ذریعے صنعاء سے سیؤن اور سیؤن سے صنعاء منتقل کیا جائے گا۔ اسی طرح حوثی قیدیوں کی ایک کھیپ کو سعودی عرب سے صنعاء لایا جائے گا۔ اسی طرح عرب اتحاد کے انیس قیدیوں کو صنعاء سے ریاض منتقل کیا جائے گا۔

ہادی ہیج نے واضح کیا کہ آج جمعرات کے روز انجام پانے والے تبادلے میں 480 حوثی قیدی اور 250 یمنی حکومت کے قیدی شامل ہیں۔ قیدیوں کی دوسری کھیپ کا تبادلہ کل جمعے کے روز ہو گا جس میں 200 حوثی قیدیوں کو جنوبی مزاحمت کاروں کے 251 اسیروں کے مقابل رہائی ملے گی۔ ان افراد کو صنعاء اور عدن کے ہوائی اڈوں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ فریقین گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ معاہدے پر عمل درامد مکمل کرنے کے حوالے سے جزوی طور پر آمادہ ہو گئے تھے۔ یہ موافقت یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور صلیب احمر تنظیم کی سرپرستی میں سامنے آئی تھی۔ سوئٹزرلینڈ معاہدے کے تحت فریقین کے 1081 قیدی اور گرفتار افراد کو رہا کیا جانا ہے۔

واضح رہے کہ ان دو دنوں کے دوران مکمل ہونے کی صورت میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ وہ پہلی عملی کامیابی ہو گی جس کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے ڈھائی سال قبل اپنی ذمے داری سنبھالنے کے بعد یقینی بنایا۔ یہ پیش رفت تمام قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گی جیسا کہ دسمبر 2019ء میں طے پانے والے اسٹاک ہوم معاہدے میں مذکور ہے۔