.

فرانس : نیس میں چاقو سے حملہ کرنے والے تونسی نوجوان کی پہلی تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے شہر نیس میں نوترے ڈیم کے تاریخی چرچ کے نزدیک تونسی نوجوان ابراہیم العویساوی کے خونی حملے کے بعد ابھی تک خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔

فرانس کی پولیس نے گذشتہ روز حملہ آور کے نام، اس کی تاریخ پیدائش اور اس کے فرانس میں داخلے کے وقت کے حوالے سے تفصیلات کا اعلان کیا۔ اطالیہ کے اخبار کوریرے ڈیلا سیرا نے نیس کے حملہ آور کی پہلی تصویر جاری شائع کی ہے۔

نوجوان حملہ آور ابراہیم اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ نوترے ڈیم چرچ کے نزدیک شہریوں پر چاقو سے حملہ کرنے والا ابراہیم پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گیا۔ یاد رہے کہ 2016ء میں نیس شہر میں ٹرک کے ذریعے حملے میں 86 افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اطالوی اخبار کے مطابق تصویر میں حملہ آور ابراہیم اطالیہ کے شہر پیری کے ایک پولیس اسٹیشن میں 104 نمبر کا شناختی کارڈ دکھا رہا ہے۔ وہ ستمبر 2020ء میں جزیرہ لیمبیڈوزا پہنچا تھا۔ وہ 9 اکتوبر کو پیری شہر میں داخل ہوا جہاں پولیس نے اسے حراست میں لے کر شناخت کے تعین کے مرکز منتقل کر دیا۔ ابراہیم 20 ستمبر کو جزیرہ لیمبیڈوزا میں غیر قانونی کشتی میں سوار دیگر مہاجرین کے گروپ کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔

بعد ازاں اس تونسی نوجوان کی رہائی اور اسے وطن واپس نہ بھیجے جانے کے حوالے سے تفصیلات منظر عام پر آنے سے اطالیہ میں وسیع پیمانے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اس معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

سیاسی شخصیات نے بھی وزیر داخلہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ستمبر میں لیمبیڈوزا جزیرے میں اترنے اور پھر اطالیہ کے شہر پیری میں حراست میں رہنے کے بعد ابراہیم کس طرح فرانس کے شہر نیس فرار ہو گیا ؟!".

فرانس میں دہشت گردی کے امور سے متعلق سینئر سرکاری عہدے دار جان فرانسوا ریکارد نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ نیس کا حملہ آور ابراہیم جمعرات کی صبح ٹرین کے ذریعے فرانس پہنچا تھا اور اس کے پاس اطالوی صلیب احمر تنظیم کی دستاویز تھی۔ بعد ازاں اس نے نوترے ڈیم چرچ کا رخ کیا۔ حملہ آور نے وہاں چاقو سے وار کر کے چرچ کے 55 سالہ خادم کو قتل کیا، ایک 60 سالہ خاتون کا سر قلم کیا اور ایک اور 44 سالہ خاتون کو شدید زخمی کیا۔ یہ خاتون جائے حادثہ سے فرار ہونے میں کامیاب رہی مگر بعد ازاں دم توڑ گئی۔

جان فرانسوا کے مطابق حملہ آور تونسی ہے اور اس کی پیدائش 1999ء میں ہوئی۔ تونسی اور فرانسیسی سیکورٹی اور پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کا نام ابراہیم العویساوی ہے۔

دوسری جانب تونس کی عدلیہ کے ترجمان محسن الدالی نے باور کرایا ہے کہ تونس سے کوچ کرنے سے قبل ابراہیم کو کبھی بھی شدت پسندوں کی صف میں شمار نہیں کیا گیا۔ وہ 14 ستمبر کو غیر قانونی طور پر کشتی کے ذریعے تونس سے روانہ ہوا تھا۔