.

ایران 'زینبیون'ملیشیا کے ذریعے کیسے پاکستان کو بلیک میل کر رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان ٹویٹر پر سخت تلخ کلامی کی دیکھی گئی۔ دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ خامنہ ای نے امریکا میں لبرل ڈیموکریسی کو ہدف تنقید بنایا۔ دوسری طرف مائیک پومپیو نے ایرانی لیڈر کو باور کرایا کہ آپ لوگ قوم کا پیسہ بیرون ملک اپنے پراسکیوں پر خرچ کرتے ہیں جب کہ ایرانی عوام اس وقت بھوک اور افلاس کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ خامنہ ای نے ایران میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران جوبائیڈن اور صدر ٹرمپ کے درمیان اختلافات کا بھی مذاق اڑایا۔ اس کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ ایرانی رجیم اپوزیشن کو ووٹ دینے کا حق ہی نہیں دیتی بلکہ طاقت کے ذریعے اپوزیشن کو دبانے اور کچلنے کی راہ پر چل رہی ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ ایرانی رجیم بنیادی انسانی حقوق تک اپنے عوام کو نہیں دے سکی۔ آئے روز بے گناہ اور معصوم لوگوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کو دبانے اور انہیں ہراساں کرنے کے لیے طرح طرح‌کے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران میں پارلیمانی یا صدارتی انتخابات ہوں صرف من پسند لوگوں کو امیدوار بننے کی اجازت ہے۔ سیکڑوں امیدواروں کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد ایران میں انتخابات صرف مذاق بن کر رہ جاتے ہیں۔

مائیک پومپیو نے مرشد اعلیٰ اور ان کی حکومت پر ایرانی قوم کے اربوں‌ ڈالر چوری کرنے اور بیرون ملک اپنے پراکسیوں پر صرف کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ ایرانی حکومت اپنے کرپٹ نظام کے دفاع کے لیے قومی خزانےاور وسائل کی لوٹ مار کر رہی ہے۔

پاکستان پر دباو

ایرانی رجیم اپنے نظریاتی اور تزویراتی اہداف کے حصول اور خطے کے ممالک میں عدم استحکام کے لیے کئی عسکری گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔ انہی ملیشیاوں‌ میں ایک 'زینبیون بریگیڈ' بھی ہے۔ یہ تنظیم سنہ 2012ء کو ایرانی پاسداران انقلاب نے قائم کی تھی۔ اس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجووں کو شام میں لڑائی کے لیے بھرتی کیا گیا۔ شام میں 'کام' مکمل ہونے بعد جب ان جنگجووں کو واپس ایران لایا گیا تو ایران نے اس گروپ کو پاکستان پر دباو ڈالنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایرانی رجیم اور پاکستان کے درمیان تعلقات اتارو چڑھاو کا شکار رہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے زینبیون بریگیڈ کی آڑ میں ایران اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو بلیک میل کرنا چاہے اور اس گروپ کو پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کو پاکستان کے لیے 'ٹائم بم' قرار دیا جا رہا ہے۔

سنہ 2011ء کوشام میں صدر بشارالاسد کے خلاف اٹھنے والی عوامی احتجاجی تحریک کے بعد ایران نے مقامات مقدسہ کے دفاع کی آڑ میں کئی عسکری گروپ تشکیل دیے۔ان میں ایک 'زینبیون' ملیشیا قائم کی گئی جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجووں‌ کو بھرتی کیا گیا۔ یہ تنظیم ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کو براہ راست جواب دہت ھی اور اس نے ایرانی مدد کے ساتھ شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے لڑائی میں حصہ لیا۔

شام میں سیاسی اور عسکری تغیرات اور دمشق میں ایرانی اثرونفوذ میں‌ کمی کے بعد افغانستان، عراق، پاکستان اور دوسرے ملکوں سے آئے جنگجووں‌ کو بھی واپس ان کے ملکوں‌ کو بھیجا جا رہا ہے۔

پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق شام سے ایران لوٹنے والے زینبیون بریگیڈ کے دسیوں جنگجو خفیہ اور غیرقانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بھرتی کیے گئے ان جنگجووں‌ کو اب شام سے واپس پاکستان لایا جا رہا ہے کیونکہ شام میں ایران کو اب ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

پاکستانی حلقوں کو تشویش اور خدشہ ہے کہ شام سے واپس آنے والے یہ جنگجو پہلے سے فرقہ واریت کا شکار رہنے والے ملک میں مزید مذہبی منافرت پھیلانے اور خطے میں نئی جنگ کو ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے بعض فرقہ وارانہ فسادات اور واقعات میں ایران کا نمایاں کردار رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کی دی جاسکتی ہے جسے پاکستان اور ایران کی سرحد سے گرفتار کیا گیا۔ کلبوشن نے پاکستان کے خلاف جاسوسی کے لیے ایرانی سرزمین کا آزادانہ طورپر استعمال کیا تھا۔