.

سعودی عرب: چھ علاقوں میں جاری زرعی کاررواں 'گینز بک' میں شمولیت کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں زراعت اور کاشت کاری کے فروغ اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک قافلہ مملکت کے چھ علاقوں‌ کے سفر پر ہے۔ اس قافلے کا بنیادی مقصد ان علاقوں میں زرارعت کے حوالے سے مقامی شہریوں اور کاشت کاروں کو رہ نمائی فراہم کرنا اور دوسرا گینز بک میں اپنا اندراج کرانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ‌کے مطابق سعودی عرب کے اس منفرد قافلے کو مقامی حکومتی عہدیداروں، ماہرین زراعت، کسانوں، فن کاروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرف سے بھرپور پذیرائی فراہم کی گئی ہے۔

وزارت ماحولیات ، پانی و زراعت میں جنرل ایڈ منسٹریشن برائے زرعی تحقیق و توسیع کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بندر الصقھان نے سعودی عرب کے تمام خطوں میں کاشتکاروں اور زراعت میں دلچسپی رکھنے والوں کو تعلیم دینے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ماحولیات ، پانی اور زراعت کے ماہرین اور کاشتکاروں کے مابین 'اشتراک عمل' کو مضبوط بنانے کے لیے کاشتکاروں کو معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مربوط زرعی توسیع کی سروسز کی فراہمی کے ساتھ زراعت کے میدان نئے اور سائنسی طریقوں کو اپنانے کے لیے کسانوں کی رہ نمائی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اس سلسلے میں کاشت کاروں کو زراعت کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے آشنا کرنا ،فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں سے نمٹنے کے لیے کسانوں کے منفی طریقوں کو تبدیل کرنا اور انہیں اس مقصد کے لیے ضروری اور صحیح مہارتیں مہیا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کی وزارت زراعت نے مملکت میں 'انوینٹری' پروگرام متعارف کرایا ہے۔

اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں زرعی توسیع کارواں اور اس کے عملی منصوبے کے تعارفی جائزہ میں کسانوں اور سعودی عرب کے 6 علاقوں میں زراعت میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی رہ نمائی کا پروگرام بنایا گیا۔ یہ زرعی گائیڈ قافلہ ریاض سے شروع ہوا۔

الصقہان کا کہنا تھا کہ زرعی کارواں ہمیشہ ملک اور شہریوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ ہمارے ملازمین اور رضا کار کسانوں کے پاس ان کے مسائل کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ ان کے تمام ضروری مسائل کو ان کے گھروں کی دہلیز پرحل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت کی رہ نمائی کے لیے چلنے والے اس قافلے میں 12 انجینیرز اور زراعت کے مختلف شعبوں کے100 ماہرین سمیت 228 افراد شامل ہیں۔