.

مراکش کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ ، امارات اور مصر کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد نے مراکش اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔

جمعرات کے روز اپنے بیان میں انہوں نے امریکا کی جانب سے مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری تسلیم کرنے اور رباط کے اسرائیل کے ساتھ رابطے کے دوبارہ آغاز اور سفارتی تعلقات کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

محمد بن زائد کے مطابق یہ سمجھوتا ایک اہم اقدام ہے جو "خطے میں استحکام، ترقی، منصفانہ اور مستقل امن کے حوالے سے ہماری مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا"۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مراکش کی تمام اراضی پر اس کی خود مختاری کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے امارات کا موقف تاریخی اور ثابت قدمی پر مبنی ہے۔ اس سلسلے میں حالیہ امریکی فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے جو خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ امارات نے اسرائیل کے ساتھ دو طرفہ سرکاری رابطوں کے دوبارہ آغاز اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے مملکت مراکش کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ انہوں نے ایک اعلان پر دستخط کیے ہیں جس میں مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراکش اور اسرائیل کا باہمی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ مشرق وسطی میں امن کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کے روز مراکش کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے معاہدے کو "امن کے لیے روشنی کی ایک اور عظیم کرن" قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے بیچ براہ راست پروازیں چلائے جانے کے علاوہ سفارتی مشنوں کا افتتاح بھی ہو گا۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ یہ سمجھوتا امریکا کے توسط سے انجام پایا ہے۔

دوسری جانب مراکش کے فرماں روا شاہ محمد السادس نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطی میں منصفانہ اور جامع امن کے موقف پر بدستور قائم ہے۔

رواں سال اگست سے اب تک مراکش وہ چوتھا ملک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں۔ اس سے قبل امارات، بحرین اور سوڈان اس صف میں شامل ہو چکے ہیں۔

ادھر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے مراکش اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کو خطے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔ جعمرات کے روز فیس بک پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر السیسی نے کہا کہ "میں اس اہم اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ، اس لیے کہ یہ اقدام ہمارے خطے میں مزید استحکام اور علاقائی تعاون کو یقینی بنائے گا"۔