.

ایران نے عراق میں امریکا کے خلاف جاسوس کس طرح بھرتی کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انگریزی ویب سائٹ The Intercept نے ایک طویل رپورٹ میں ایران کی جانب سے عراق میں جاسوسوں کی بھرتی کے طریقہ کار کا انکشاف کیا ہے۔ یہ جاسوس عراق میں امریک سرگرمیوں کے حوال سے معلومات فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ کے آغاز میں ایک عراقی جاسوس کا ذکر کیا گیا ہے۔ کئی برس سے خفیہ طور پر ایران کے لیے کام کرنے والے اس جاسوس نے عراق میں امریکی آپریشنز کے حوالے سے قیمتی انٹیلی جنس معلومات پیش کیں۔ البتہ 2011ء میں عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں واضح کمی آنے کے بعد تہران نے مذکورہ جاسوس کی خدمات لینے کا سلسلہ روک دیا۔

جاسوسی کی یہ کہانی ایرانی انٹیلی جنس کے ٹیلی گرامز آرکائیو سے نکالی گئی ہے۔ انگریزی ویب سائٹ The Intercept مذکورہ ٹیلی گرامز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے جاری سیکڑوں خفیہ رپورٹوں سے عراق میں ایران کے اثر انداز ہونے اور وہاں اپنے جاسوس نصب کرنے کے حوالے سے خوف ناک تفصیلات کا انکشاف ہوتا ہے۔ ویب سائٹ نے 2019ء میں اِفشا ہونے والی ایرانی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاسوسی کی کہانی پیش کی ہے۔ اس کے بعد سے یہ ویب سائٹ تحقیق کر کے مزید کہانیاں منظر عام پر لائی۔

ایرانی وزارت انٹیلی جنس و قومی سلامتی سے اِفشا ہونے والی رپورٹون میں بنیادی طور پر عراق میں ایرانی انٹیلی جنس کی کارروائیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس سلسلے میں 2013ء سے 2015ء تک عراق میں ایرانی انٹیلی جنس کے دفاتر سے تہران ارسال کی گئی زمینی رپورٹیں اور ٹیلی گرامز جمع کیے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ خبروں سے متعلق کسی مغربی ادارے نے اتنی بڑی تعداد میں ایرانی حکومت کی نہایت خفیہ دستاویزات حاصل کی ہیں۔

عراقی سیاسی منظر نامے میں ایران کے گہرے اثر و نفوذ کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس کے دو مرکزی ادارے "وزارت انٹیلی جنس و قومی سلامتی" اور پاسداران انقلاب کے زیر انتظام "القدس فورس" کئی برس تک عراق کے تمام علاقوں میں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ اس کے نتیجے میں پورے ملک میں خفیہ ذرائع کا ایک ضخیم نیٹ ورک بن گیا۔

رپورٹ کے ابتدائی حصے میں مذکور عراقی جاسوس کے مطابق اس کا ایک دوست تھا جو ترکی میں انجرلک فوجی اڈے میں کام کرتا تھا۔ اسے بھی ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے مشن سونپا گیا تھا۔ عراقی جاسوس نے ایرانی انٹیلی جنس کو واضح کر دیا تھا کہ انجرلک اڈے میں سخت سیکورٹی اس کے دوست کے لیے یہ بات مشکل بنا دے گی کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ ایرانیوں کے ساتھ رابطے میں رہ سکے۔ تاہم ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی افشا ہونے والے ٹیلی گرامز س یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ آیا عراقی جاسوس کے دوست نے واقعتا ترکی میں امریکی فوجی اڈے کے اندر سے ایران کے لیے جاسوسی انجام دی۔

اس سے قبل 2019ء میں The Intercept ویب سائٹ اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے افشا ہونے والے ایک ایرانی ٹیلی گرام کے حوالے سے مشترکہ طور پر اسی نوعیت کی ملتی جلتی کہانی شائع کی تھی۔

اس ٹیلی گرام سے ظاہر ہوا کہ ایرانی وزارت داخلہ نے امریکی وزارت خارجہ کے اندر جاسوس بھرتی کیا یا پھر بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس حوالے سے The Intercept ویب سائٹ کو ایرانی داخلی رپورٹ کے ایک حصے کے سوا کچھ نہ ملا۔ اس حصے میں تاریخ موجود نہیں۔

سال 2020ء میں امریکی تحقیقاتی بیورو FBI نے عراق میں ایران سے مربوط جاسوسی کے ایک دوسرے معاملے میں ایک خاتون کو گرفتار کیا تھا۔ عراق میں امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والی مریم تھامسن پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے دو خفیہ امریکی مخبروں کے ذریعے معلومات آگے بڑھائی تھی۔

ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی ٹیلی گرامز سے عراق میں ایران کے جاسوسوں کی بھرتی کامیاب ہونے کی وجوہات ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ عراق میں سرگرم ایرانی انٹیلی جنس کے افسران "روایتی انداز" اختیار کرتے ہیں تا کہ اپنے ذرائع سے ملاقات کے دوران ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

امریکی ویب سائٹ The Intercept کی رپورٹ کے مطابق ایرانیوں نے انٹیلی جنس مقاصد کے لیے عراق میں مذہبی اور ثقافتی اداروں اور سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے "جدت" پر مبنی طریقے اختیار کیے۔ عراق میں جاسوسی کی کارروائیوں میں غداری سے اجتناب کے لیے ایرانی انٹیلی جنس "فرقہ وارانہ" سوچ کے حامل مخبروں پر زیادہ اعتماد کے لیے تیار ہوتی تھی۔

افشا ہونے والے ٹیلی گراموں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عراق میں سرگرم ایرانیوں نے جہاں پرانے اسلوب اور ذاتی و ثقافتی تعلقات پر بڑے پیمانے پر اعتماد کیا وہاں انہوں نے بعض مرتبہ عراق میں جاسوسی کے واسطے برقی ٹکنالوجی کا بھی سہارا لیا۔ ہر چند ایسا بھی ہوا کہ جاسوسی کے سلسلے میں ٹکنالوجی کا استعمال بری طرح ناکام رہا۔