سعودی عرب میں معدہ براری کے آپریشن کے ذریعے موٹاپے کا شافی علاج

ایک سال کے دوران 30 ہزار افراد کی کامیاب سرجری میں 70 فیصد تعداد خواتین کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حالیہ اعداد وشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ایک سال کے دوران 30،000 سے زیادہ معدہ براری کے آپریشنز کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ وزن کم کرنے کا یہ ایک ایسا طریقہ علاج ہے جس میں مریض کے معدے کا حجم 15 فی صد تک کم کر دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں ایک سال کے دوران اس سرجری کےعمل سے گذرنے والے مریضوں میں سب سے زیادہ خواتین ہیں جب کہ ان میں سے وزارت صحت نے 2،400 آپریشن انجام دیئے ہیں۔ معدہ براری کے آپریشنز کرانے والوں میں 70 فیصد تعداد خواتین کی بتائی جاتی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ موٹاپے کا شکار افراد کے معدہ براری سرجیز کی تعداد 2400 تک پہنچ گئی۔ وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں موٹاپا سرجری کے منظور شدہ 20 مراکز ہیں جہاں مریضوں کے آپریشن انجام دیے گئے۔ مریضوں کی تعداد 18 سال سے 65 سال کے درمیان ہے۔

وزارت صحت کے مطابق معدہ براری کے آپریشن کرانے والا مریض سرجری کے بعد معمول کی زندگی گذار سکتا ہے۔ اس کے بعد موٹاپے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ موٹاپے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے علاج کا خرچ دگنا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ان پیچیدگیوں میں ذیابیطس، بلند فشار خون اور کولسٹرول سمیت دوسرے دیرینہ امراض نمایاں ہیں۔

اسی تناظر میں مملکت میں موٹاپا خاتمے اور لیپروسکوپک سرجری کے کنسلٹنٹ ڈاکٹرعید القحطانی نے بتایا کہ ایک سال میں مملکت میں معدہ براری کے آپریشنز کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔ ایک سرجری پر20 ہزار ریال خرچ ہوتے ہیں۔

القطحانی نے مزید بتایا کہ میڈیکل شعبے میں ہونے والی حالیہ ترقی کی برکت سے معدہ براری کا آپریشن ذیابیطس کا قابل عمل علاج بنتا جا رہا ہے۔ شوگر ٹائپ ٹو کے وہ مریض جن کا وزن ان کے معیاری وزن سے بیس کلوگرام سے زیادہ ہو کو معدہ براری کے آپریشن کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں