.

ایران میں القاعدہ قیادت کو پناہ دینے پر اصرار کے پیچھے کیا راز ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا، خطے میں اپنی مہم جوئی اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعلقات کے پیچھے کئی خطرات اور راز پنہاں ہیں۔ ایران کی ان تمام کوششوں کا مقصد مشرق وسطیٰ‌ کے خطے سے ایرانی وجود کو ختم کرنا ہے۔

حال ہی میں امریکی جریدے 'Foreign Affairs' میں شائع ہونے والے 'ایران اور القاعدہ، دہشت گردی اور نفرت کے اتحادی' کے عنوان سے شائع مضمون میں فاضل کالم نگار نے ایران اور القاعدہ کے درمیان تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

بارہ جنوری 2021ء کو سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں الزام عاید کیا کہ ایران القاعدہ کی نئی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور القاعدہ کے درمیان 30 سالہ تعلقات اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ ایران نے سنہ 2015ء کو القاعدہ کو اپنی آپریشنل کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین میں جگہ دی۔ اس کے بعد یہ تنظیم ایرانی رجیم کے موٹے چمڑے کے نیچے کام کر رہی ہے۔

مائیک پومپیو پہلے امریکی عہدیدار نہیں جنہوں‌ نے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بات کی بلکہ اس طرح کے الزامات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔ اگرچہ مائیک پومپیو کے اس بیان کو بعض حلقوں کی طرف سے مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ پومپیو جوبائیڈن انتظامیہ کے ایران کےحوالے سے ممکنہ اقدامات اور پالیسی میں مداخلت کررہے ہیں۔

ایران کئی سال سے القاعدہ کمانڈروں کو اپنی سرزمین پر پناہ دیے ہوئے ہے۔ القاعدہ اور ایران نے ایک دوسرے کے ساتھ قیدیوں کا بھی تبادلہ کیا۔ بعض القاعدہ کمانڈروں کو ایران میں گرفتار کرنے کا دعویٰ‌ بھی کیا گیا۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدوں کے بعد القاعدہ جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم کو ایران میں آزادانہ کام اور نقل وحرکت کا موقع ملا۔ مشترکہ دشمن کے خلاف کارروائیوں کے لیے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعاون بھی رہا۔

گیارہ ستمبر کے واقعات کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات سنہ 1990ء کی دھائی سے قائم ہیں۔ نوے کی دھائی میں القاعدہ کے کئی سرکردہ کمانڈر بم تیار کرنے اور عسکری تربیت کے حصول کے لیے ایران گئے۔ کچھ القاعدہ جنگجووں کو لبنانی حزب اللہ کی طرف سے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیعہ سنی فکری اور نظری اختلافات کے باوجود القاعدہ اور ایران کے درمیان عسکری کارروائیوں اور ایک دوسرے کی مدد میں رکاوٹ نہیں بن سکا۔

ایک سنی اور شیعہ مخالف جہادی تنظیم ہونے کے باوجود القاعدہ نے ایران کے ساتھ فرقہ وارانہ کشیدگی کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ اس کی بنیادی وجہ دونوں کا ایک تزویراتی ہدف پر متحد ہونا تھا اور وہ تزویراتی ھدف مشرق وسطیٰ کےخطے میں ایرانی وجود کا خاتمہ ہے۔ اسی بنیادی مشترکہ ہدف اور مقصد کی بنا پر القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات قائم رہے۔

تجزیہ نگار عساف مقدم کے مطابق القاعدہ اور ایران کے درمیان باہمی تعاون ٹیکٹیکل کوآپریشن تک محدود نہیں رہا بلکہ ایرانی رجیم نے تہران کو القاعدہ کے لیے'سہولت کاری کے مرکز' کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت دی۔ سنہ 2007ء میں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن نے کہا تھا کہ ایران ہمارے جنگجوئوں کو رقوم کی منتقلی کے لیے'شہ رگ' کا درجہ رکھتا ہے تاہم ساتھ ہی انہوں‌نے اعتراف کیا کہ ایران نے اپنے ہاں پناہ لینے بعض القاعدہ جنگجوئوں پر قدغنیں بھی عاید کی ہیں۔ دونوں‌کے درمیان مختصر عرصے کے لیے تبائو اور کشیدگی بھی دیکھی گئی۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد القاعدہ کے کئی جنگجوئوں‌نے ایران میں پناہ حاصل کی۔ ایران آنے والے القاعدہ جنگجوئوں میں سے بعض کو گرفتار کیا گیا اور کچھ کو گھروں ہر نظربند کیا گیا۔ ان القاعدہ جنگجوئوں کا دوسرے ممالک میں‌موجود جنگجوئوں کے ساتھ رابطہ منقطع کیا گیا۔

ایبٹ آباد میں بن لادن کے مبینہ ٹھکانے سے ملنے والی دستاویزات کا مطالعہ کرنے والی تجزیہ نگار نیللی لحود ایران میں القاعدہ جنگجوئوں‌کی گرفتار پر تنظیم کے ارکان کی طرف سے سخت احتجاج کیا گیا اور ان کی متبادل قیادت کی تعیناتی کے مطالبات کیے گئے۔
سنہ 2010ء کو پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کی یقادت نے ایران میں اپنے جنگجوئوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے ایک مکتوب جاری کیا۔ اس میں دعویٰ‌کیا گیا کہ تنظیم کے ارکان کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی جیلوں میں ظلم کا سامنا ہے۔ القاعدہ نے اپنے ارکان سے کہا کہ وہ بھی ایرانی عہدیداروں کو اغوا کریں اور اس کے بعد ان کی رہائی کے بدلے میں اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ایران سے مذاکرات کریں۔

سنہ 2011ء میں ایران اور القاعدہ کے درمیان قیدیوں‌کے تبادلے کا ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے القاعدہ کے کئی ارکان کو رہا کردیا۔ ان میں حمزہ بن لادن بھی شامل تھا۔ حمزہ کو ایک ایرانی سفارت کار کے بدلے میں رہا کیا گیا جسے 2008ء میں‌پاکستان سے اغوا کیا گیا تھا۔ سنہ 2015ء کو ایران اور القاعدہ میں قیدیوں کی ایک اور ڈیل طے پائی جس میں القاعدہ نے 2013ء میں یرغمال بنائے ایک ایرانی سفارت کار کو رہا کیا۔ القاعدہ جنگجوئوں کی ایران میں جیلوں سے رہائی کے بعد کھلا چھوڑ دیا گیا۔

امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2015ء میں طے پانے والے معاہدے میں القاعدہ کے پانچ سرکردہ ارکان کو رہا کیا گیا۔ ان میں تین مصری تھے جن کی شناخت سیف العدل، ابو محمد المصری اور ابو الخیر المصری کےناموں سے کی گئی جب کہ دو کا تعلق اردن سے تھا اور ان کے نام ابو القسام اور ساری شہاب بتائے جاتے تھے۔ انہیں یمن سے اغوا کیے ایک ایرانی سفارت کار کے بدلے میں رہا کیا گیا تھا۔