.

ایرانی ملیشیائیں سبزی فروٹ کی گاڑیوں کو اسلحہ کی منتقلی کے لیے استعمال کرنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ملیشیاوں کی جانب سے عراق سے شام کو اسلحہ کی منتقلی کے لیے سبزیوں، پھلوں اور اناج کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کا استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے 'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق حال ہی میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاوں‌ نے عراق سے سبزی لانے والے ٹرکوں پر شام کو اسلحہ کی بھاری مقدار بھیجی۔

ذرائع نے بتایاکہ مشرقی دیر الزور میں دریائے فرادت کے مغربی کنارے سے سبزی اور پھل لانے والے تین مال برادر گاڑیوں کے ذریعے شام میں اسلحہ منتقل کیا گیا۔ یہ مال بردار ٹرک گذشتہ جمعہ کو مشرقی دیر الزور میں پہنچے۔ یہ گاڑیاں مشرقی دیر الزور میں البوکمال شہر میں قائم سرحدی گائوں العباس میں قائم ایک غیرقانونی گذرگاہ سے شام میں داخل کی گئیں اور ان کے ہمراہ ان کی حفاظت کے لیے دو پک گاڑیاں بھی تھیں۔

ایران عام طورپر ان 'غیرقانونی' گذرگاہوں کو شام اور عراق میں اسلحہ کی منتقلی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

گیارہ فروری کو البوکمال شہر میں ایک غیرقانونی گذرگاہ کے راستے عراق سے شام داخل ہونے والی اسلحہ بردار گاڑی پر نامعلوم طیاروں کے ذریعے بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں چار ایران نواز جنگجو ہلاک اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود تباہ ہوگیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ایرانی ملیشیائوں‌ نے دیر الزور کے اطراف، المیادین اور البوکمال شہروں میں موجود اپنے مراکز تبدیل کیے اور اسلحہ کو دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا۔ یہ تبدیلی شام میں ایرانی ملیشیائوں پر ہونے والے شدید حملوں کی بنا پرعمل میں لائی گئی ہے۔