.

یہودیت قبول کرنے والے مزیدغیرآرتھوڈکس اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں:عدالتِ عظمیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے ملک میں یہود کی شناخت سے متعلق سب سے اہم متنازع معاملے کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور قراردیا ہے کہ یہودی مذہب قبول کرنے والے مزید غیر آرتھوڈکس نقل مکانی کرکے اسرائیل میں آسکتے اور اس کے شہری بن سکتے ہیں۔

اسرائیل کا ’’واپسی کا قانون‘‘دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے کسی بھی یہودی کو شہریت کا حق دیتا ہے لیکن دوسرے مذاہب سے یہودیت میں داخل ہونے والوں کو صہیونی ریاست کی شہریت دینے پر تنازع چلا آرہا ہے۔

اسرائیل میں یہود کے سخت گیر گروپ کڑی آرتھوڈکس مذہبی تبدیلی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ قدرے کم سخت قدامت پسند اور اصلاح پسند تحریکوں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں نرمی اور ایک ٹھوس متبادل حل پیش کرتی ہیں۔

اسرائیل میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ بیرون ملک قدامت پرست اور اصلاح پسند مذہبی تبدیلی کو بھی شہریت دینے کے لیے تسلیم کیا جاتا ہےمگرمقامی سطح پر اس انداز میں تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ وہ گذشتہ پندرہ سال سے جاری قانونی جنگ کو سمیٹ رہی ہے اور اس نے یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر زیادہ زور نہ دینے کی وجہ سے کیا ہے۔اس نے قرار دیا ہے کہ اسرائیل میں غیرآرتھوڈکس مذہبی تبدیلی بھی شہریت کے حصول کے لیے کافی ہوگی۔تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہرسال روایتی طور پر ایسی کتنی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ فیصلے میں صرف موجودہ قانون کی تشریح کی جارہی ہے جبکہ پارلیمان کسی بھی وقت قانون میں ترمہم کے ذریعے ایک مختلف بندوبست کرسکتی ہے۔

اسرائیل کے وزیر داخلہ اور آلٹرا آرتھوڈکس ربی نے عدالت کے فیصلہ کو ’’بہت ہی بدقسمت‘‘ قراردیا ہے اور کہا کہ ’’وہ قانون میں ترمیم کے لیے کام کریں گے تاکہ صرف سخت یہودی قانون کے مطابق ہی مذہبی تبدیلی کی اجازت دی جاسکے۔‘‘

دوسری جانب اسرائیلی حزب اختلاف کے لیڈر یائرلیپڈ نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ہم سب کو یہاں باہمی رواداری اور احترام کے ساتھ مل جل کر رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘