.

حافظ قرآن، فیشن ڈیزائنر پستہ قد 'ملکہ حسن' سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پستہ قد افراد عام طور دوسرے لوگوں کی حوصلہ شکنی اور طنزو مزاح کا شکار رہتے ہیں جس کے نتیجے میں‌ وہ احساس کم تری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مگر مصر کی ایک پستہ قد خاتون نے تین اہم میدانوں میں غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ اس نے چھوٹے قد والی 'ملکہ حسن' کا ٹائٹل بھی حاصل کیا ہے۔

مصر کی شمالی گورنری القلیوبیہ کے منشاۃ القناطر شہر کے علاقے کفر شبین سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ نجوان علی خفاجی کا قد 122 سینٹی میٹر ہے۔

اس نے ہوم اکنامکس میں شاندار نمبروں کے ساتھ گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد فیشن ڈیزائننگ کے میدان میں بھی شاندار کار کردگی دکھائی۔ اپنی تعلیم کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس نے جامعہ الازھر سے پانچ سالہ شرعی علوم کا کورس کیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور تجوید میں بھی کمال حاصل کیا۔ اس کے بعد ملک کی ایک بڑی پٹرولیم کمپنی میں ملازمت شروع کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے نجویٰ نے کہا کہ اس نے قرآن پاک حفظ کیا۔ فیشن ڈیزائننگ میں مہارت حاصل کی۔ تجوید القرآن کورس کیا اور اب وہ نہر سویز میں ایک پٹرولیم کمپنی میں ملازمت کرتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نجوان نے کہا کہ پستہ قد ہونا لوگوں میں طنز مذاق کا باعث بنتا ہے اور اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ لوگ عجیب وغریب نظروں ‌سے دیکھتے اور آوازیں ‌کستے ہیں مگر لوگوں کے غیر مہذب طرز عمل کے باوجود اس نے اپنی توجہ اپنے مشن پر مرکوز رکھی تاکہ لوگ اس پر طنز کرنے کے بجائے اس سے متاثر ہوں۔

شرم الشیخ گورنری میں دوسرے پیس لینڈ فیسٹیول کی سرگرمیوں میں ملکہ حسن کے مقابلے میں شرکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے نجوان نے کہا کہ اس مقابلے میں مختلف عرب ممالک سے15 پستہ قد لڑکیاں شامل تھیں مگر جیوری نے اسے چھوٹے قد والی ملکہ حسن کا ٹائٹل دے کراس کی حوصلہ افزائی کی۔

ایک سوال کے جواب میں نجوان نے کہا کہ میری گذری زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھرپور تھی مگر میں نے صبر اور اللہ پر بھروسہ قائم رکھا۔ میں نے تین کام اپنا مشن بنا لیے۔ پہلا فیشن ڈینزائنگ، دوسرا قرآن پاک حفظ کرنا اور تیسرا پیٹرولیم کمپنی میں اہم عہدے پر ملازمت تھی۔ اللہ نے میرے لیے کامیابیوں کے راستے کھولے اور آج میں مصر ہی نہیں بلکہ عرب دنیا میں کئی ایوارڈ حاصل کرچکی ہوں۔