.

سیاسی اور اقتصادی بحرانات کے سبب احتجاج نے لبنان کو مفلوج کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں پیر کی صبح احتجاجی مظاہرین نے مختلف علاقوں میں مرکزی راستوں کو بند کر دیا۔ ان میں زیادہ تر راستے دارالحکومت بیروت آنے والے ہیں۔ مظاہرین ڈالر کے مقابلے میں لبنانی کرنسی کی ریکارڈ گراوٹ اور ملک کے سیاسی جمود میں ڈوب جانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

یہ مسلسل ساتواں روز ہے جب بیروت میں داخل ہونے والے زیادہ تر راستوں کی بندش دیکھی جا رہی ہے۔ آج کے روز کے احتجاج کو "یومِ غضب" کا نام دیا گیا ہے۔

احتجاجیوں نے کچرے کے ڈھیروں اور ٹائروں میں آگ لگا دی۔ بیروت کے جنوب میں کئی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے جن میں اہم ترین ہوائی اڈے جانے والا راستہ ہے۔ اسی طرح شمال میں طرابلس اور مشرق میں بقاع کے علاقے بھی شدید متاثر ہیں۔ بیروت میں لبنان کے مرکزی بینک کے سامنے والی شاہراہ بھی بلاک کر دی گئی ہے۔

قومی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مظاہرین کی جاری تصاویر میں ایک شخص نے خود پر پٹرول چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی تاہم شہری دفاع نے بر وقت پہنچ کر اسے روک دیا۔

بلیک مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت 11 ہزار لبنانی لیرہ کی حد پار کر چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لبنان میں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح خوف ناک حد تک بلند ہو رہی ہے۔

اقتصادی بوجھ اور سیالیت کی شدید قلت کے باوجود بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ بھی حکومتی تشکیل کے لیے سیاسی کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے خوف ناک دھماکے کے چند روز بعد حسان دیاب کی حکومت مستعفی ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ نامزد وزیر اعظم سعد حریری کا صدر میشیل عون کے ساتھ اختلاف ہے جس کے سبب وہ نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ایسی حکومت جو اربوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ اصلاحات پر عمل درامد کر سکے۔

لبنان میں 2019ء کے موسم گرما سے بدترین اقتصادی بحران دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 80% سے زیادہ قیمت کھو چکی ہے۔ افراطِ زر کا عفریت ہزاروں افراد کی نوکریوں کو نگل چکا ہے۔