.

قطیف کے ساحل سے "فلیمنگو" پرندوں کی ہجرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلیمنگو یعنی 'لال لم ٹنگو' کا شمار دنیا کے خوب صورت ترین پرندوں میں ہوتا ہے۔ موسم سرما کے آغاز سے مارچ کے اختتام تک پرندوں پر نظر رکھنے والے افراد سعودی عرب کے مشرق میں قطیف ضلع کے ساحل سے فلیمنگو کے جھنڈوں کے رخصت ہونے کے لمحات کی نگرانی کرتے ہیں۔ پورے موسم سرما میں یہ پرندے قطیف کے ساحل پر رہتے ہیں۔

آبی فوٹوگرافر اور غوطہ خور "حسین عباس" نے قطیف ضلع کے شہر سیہات کے ساحل پر فلیمنگو کی موجودگی کا فضائی منظر محفوظ کیا۔ شہر کے مکین یہاں بیٹھ کر تفریح حاصل کرتے ہیں اور اس ساحل پر فلیمنگو پرندوں کے اکٹھا ہونے کے منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

عربی زبان میں فلیمنگو پرندے کا نام "النحام" ہے۔ خلیج عربی کے ساحل پر موجود شوقین افراد اس پرندے کے پرکشش مجمع کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ یہ پرندے سفید اور گلابی رنگوں کے ساتھ دل موہ لیتے ہیں۔

جزیرہ نما عرب میں پرندوں کے تحفظ سے متعلق گروپ کے سربراہ اور ماحولیاتی ماہر محمد الزاہر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "فلیمنگو کا شمار خلیج عربی کے ساحلوں کی جانب ہجرت کرنے والے سب سے بڑے ، خوب صورت ترین اور مشہور ترین پرندوں میں ہوتا ہے۔ موسم سرما کے دوران میں یہ ساحلوں کے کنارے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک وقت میں 10 سے لے کر 100 یا پھر اس سے بھی زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ اس کا قد 1.2 سے 1.45 میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔ قطیف اور جزیرہ تاروت ان اہم ترین مقامات میں سے ہیں جہاں یہ پرندے موسم سرما کے دوران کا عرصہ گزارتے ہیں"۔

الزائر کے مطابق بڑے حجم کا یہ فلیمنگو پرندہ گرمیوں میں براعظم ایشیا کے شمالی علاقوں اور یورپ میں پھیل جاتا ہے۔ بعد ازاں موسم سرما اور بہار کے موسم میں (ستمبر سے مارچ کے اختتام تک) یہ باقاعدگی سے خلیج عربی کے علاقے میں ہجرت کر جاتا ہے۔ اس کو کویت سے لے کر سلطنت عُمان تک کی ساحلی پٹی پر دیکھا جا سکتا ہے۔

الزاہر کا کہنا ہے کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگرچہ لوگوں میں فلیمنگو کو دیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے تاہم اس کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ متعدد پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ان میں مینگروف جنگلات کا نہ ہونا اور سمندروں کے ساحلوں کو گہرا بنانا جس کے سبب پرندوں کی بقا اور ان کو غذا کی فراہمی کے مناسب مقامات کم ہو گئے ہیں ،،، اہم ترین ہیں۔ لہذا اب فلیمنگو پرندے کے جھنڈ محدود مقامات پر دکھائی دیتے ہیں جب کہ ماضی میں یہ بہت زیادہ پھیلے نظر آتے تھے۔