.

ٹانگ سے معذور شامی پیراک اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے پرعزم

میں اپنے لیے نہیں بلکہ 8 کروڑ پناہ گزینوں کے لیے پیراکی کر رہا ہوں: ابراہیم الحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے جسمانی معذوری کو پیراکی کے اپنے شوق کی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس بہادر اور باہمت نوجوان کا نام ابراہیم الحسین ہے جس نے ایک ٹانگ سے معذور ہونے کے باوجود پیراکی کے اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے کی تیاری شروع کی ہے۔ ابراہیم الحسین پر عزم ہے کہ وہ معذور ہونے کے باوجود پیراکی کے مقابلوں میں نہ صرف حصہ لے گا بلکہ وہ مقابلے میں اپنے حریفوں کو شکست بھی دے گا۔

ابراہیم الحسین بھی شام کی تباہ کن خانہ جنگی کے دوران ایک بم دھماکے میں اپنی ایک ٹانگ کھو بیٹھا تھا۔ ٹانگ کٹ جانے کے بعد وہ ھجرت کر کے یونان چلا گیا۔ وہاں اس نے پیراکی کے مقابلے کی تربیت شروع کی ہے تاکہ ٹوکیو میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی پیراکی مقابلوں میں شمولیت کے لیے خود کو تیار کر سکے۔

سوئمنگ کوچ کے 33 سالہ بیٹے ابراہیم الحسین نے پیراکی کا شوق اس اپنایا جب اس کی عمر صرف پانچ سال تھی۔ وہ شام کے علاقے دیر الزور میں دریائے فرات پر بنے ایک پل سے کود کر پیراکی کرتا مگر شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران بمباری سے یہ پل بھی تباہ ہو چکا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق سنہ 2012 کو ابراہیم کا ایک دوست بمباری میں زخمی ہو گیا۔ وہ اس کی مدد کے لیے گیا مگر بم پھٹنے سے اس کی ایک ٹانگ بھی گھٹنے سے نیچے سے کٹ گئی۔ اس کے بعد اس نے وہیل چیئر پر یونان کا کٹھن اور دشوار گذار سفر کیا۔ پہلی مہاجر ٹیم میں شامل ہونے کے بعد 2016 میں ریو ڈی جنیرو میں پیرا اولمپکس میں حصہ لینے والے ابراہیم نے کہا "سب کچھ ممکن ہے"۔ اس نے مزید کہا کہ دنیا میں 90 فی صد لوگ یقین رکھتے ہیں کہ طاقت ہاتھوں اور پیروں میں ہے لیکن یہ طاقت دماغ سے ہی اندر سے آتی ہے۔

یونان میں ایک ڈاکٹر نے ابراھیم کو مصنوعی ٹانگ فراہم کی
یونان میں ایک ڈاکٹر نے ابراھیم کو مصنوعی ٹانگ فراہم کی

پیراکی کا جنون

پچاس سے زیادہ مہاجر کھلاڑیوں نے ٹوکیو میں حصہ لینے کی امید کی جوت دل میں جگا رکھی ہے اور بین الاقوامی پیرا اولمپک کمیٹی جون میں منتخب ہونے والی مہاجر ٹیم میں مقابلہ کرنے کے لیے ان میں سے چھ کو منتخب کرے گی۔ ابراہیم ٹیم کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے۔

اس نے دو گھنٹے کے تربیتی کلاس کے بعد کہا کہ میں اولمپک کھیلوں کے بارے میں ہر لمحے پانی میں گزارنے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میرے اندر کی کوئی چیز مجھ سے کہتی ہےکہ مجھے اولمپکس میں پہنچنا چاہیے، مجھے عالمی چیمپین شپ میں پہنچنا چاہیے۔ میں باز نہیں آؤں گا، چاہے میں اپنی دوسری ٹانگ کھو دوں یا اپنا بازو گنوا دوں۔

خیال رہے ابراہیم الحسین سنہ 2014ء کو ایک بڑی کشتی کے ذریعے شام سے یونان پہنچا تھا۔ اس کشتی پر 80 پناہ گزین سوار تھے۔ یونان میں ایک ڈاکٹر نے مفت مصنوعی ٹانگ فراہم کی۔