.

شقی القلب باپ کے لرزہ خیز مظالم ، 6 سالہ شامی بچّی کی زندگی کا چراغ گُل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اِدلب کے ایک پناہ گزین کیمپ میں شامی بچی نہلہ عثمان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس لہر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نہلہ کی موت کا سبب کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا باپ ہے۔

نہلہ کی کہانی جان کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے شقی القلب باپ نے اپنی پھول جیسی بچی کو زنجیریں ڈال کر قید میں رکھا ہوا تھا یہاں تک کہ اس کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔

ظالم باپ نے چھ سالہ نہلہ کو کھانے پینے سے محروم کر رکھا تھا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق غذئی قلت کے سبب نہلہ کے جگر میں سوزش ہو گئی اور پھر مزید امراض اس کی وفات کا سبب بن گئے۔ دوسری جانب طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نہلہ کی موت آدھے گھنٹے تک دم گھٹنے سے واقع ہوئی۔

ذرائع کے مطابق نہلہ کے والد کا ایک 16 سالہ بیٹا بھی ہے جو اپنے باپ کے برے برتاؤ کے سبب بھاگ گیا تھا۔

نہلہ کو تشدد کا اس حد تک سامنا تھا کہ اسے مہینے میں صرف ایک بار نہانے کی اجازت دی گئی تھی۔ باپ نے نہلہ کو کھانے پینے اور اپنے اور پنی بیوی سے بھی دور کر رکھا تھا۔ المرصد کے مطابق نہلہ کا باپ دہشت گرد تنظیم "ہیئۃ تحریر الشام" کا رکن ہے۔ وہ نہلہ کے قریب آنے والے ہر انسان کو دھمکاتا تھا۔

نہلہ کی موت کے واقعے کے بعد مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ اس کے ظالم باپ کا محاسبہ کیا جائے۔