.
بشار اور شام

سیاسی حل کے سوا شام کے بحران کا کوئی حل نہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے پیر کے روز شام کے حوالے سے منعقد ہونے والے وزارتی سطح کے اجلاس میں شرکت کی۔ روم میں ہونے والے اس اجلاس کی دعوت مشترکہ طور پر امریکا اور اطالیہ کی جانب سے دی گئی تھی۔

سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے دوران میں اس ہم اجلاس میں دعوت دیے جانے پر اطالوی اور امریکی وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شہزادہ فیصل نے ایک بار پھر سعودی عرب کا یہ موقف دہرایا کہ "سیاسی حل ہی شام کے بحران کا واحد حل ہے۔ یہ حل بین الاقوامی قرار داد 2254 اور متعلقہ بین الاقوامی فیصلوں کے مطابق ہونا چاہیے"۔

سعودی وزیر خارجہ نے شامی عوام کے مصائب کے سد باب اور سرحدی گزر گاہوں کے بحران کے حل تک پہنچنے کے واسطے بین الاقوامی موافقت کی اہمیت کو باور کرایا تا کہ بین الاقوامی امداد مستحق افراد تک پہنچائی جا سکے۔ شہزادہ فیصل نے زور دیا کہ شام میں انسانی بحران کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ شامی عوام کی انسانی ضروریات سے غفلت برتی گئی تو شدت پسند تنظیموں کو اپنے افکار پھیلانے کا موقع ہاتھ آ جائے گا۔

سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ "شام کا بحران حل کرنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی ارادیت نہ ہونے سے بعض فریقوں کو اپنے توسیعی، فرقہ وارانہ اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے منصوبوں پر عمل درامد کا موقع مل گیا۔ ان کا مقصد شام کے تشخص کو بدل دینا ہے"۔

خطاب کے اختتام پر شہزادہ فیصل نے مذاکراتی عمل کے دوبارہ آغاز کے لیے کوششوں کو یکجا کرنے کی اہمیت باور کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے گیر پیڈرسن کی کوششوں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔