.

غربِ اردن میں جھڑپیں؛اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ہفتے کی شب فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران میں فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے شہید نوجوان کی شناخت محمد فرید حسن کے نام سے کی ہے،اس کی عمر 20 سال تھی اور وہ نابلس شہر کے نزدیک واقع گاؤں قصرہ کا رہنے والا تھا۔

فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا کی اطلاع کے مطابق نابلس کے نواح میں رہنے والے یہودی آبادکاروں نے اسرائیلی فوج کی معیت میں قصرہ گاؤں پردھاوا بول دیا تھا۔اس کے مکین فلسطینیوں نے حملہ آور یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوجیوں کی مزاحمت کی۔اس دوران میں صہیونی فوجیوں نے فائرنگ شروع کردی اور ایک گولی فرید حسن کے سینے میں لگی تھی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

واضح رہے کہ فلسطینی غربِ اردن کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کے یہودی آبادکاروں کی بستیوں کے توسیعی منصوبوں کے خلاف ہفتہ وار مظاہرے کرتے ہیں۔ان کی اکثروبیشتراسرائیلی فوجیوں اور یہودی آبادکاروں سے جھڑپیں خونریزی پر منتج ہوتی ہیں۔

یادرہے کہ اسرائیلی فوج نے1967 کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں غربِ اردن پر قبضہ کرلیا تھا اور پھر وہاں یہودی آبادکاروں کو لاکر بسانا شروع کردیا تھا۔تب اس مقبوضہ علاقے میں صہیونی فوجی تعینات ہیں اور وہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہتے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اس وقت قریباً پانچ لاکھ یہودی آبادکار اسرائیل کی مجاز 130 سے زیادہ بستیوں یا الگ تھلگ آبادیوں میں رہتے ہیں۔فلسطینی ،عالمی برادری اور بین الاقوامی ادارے ان تمام بستیوں کو عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی اورغیر قانونی قرار دیتے ہیں اور انھیں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔فلسطینی غربِ اردن کو مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل یہودی بستیوں کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔