.

سوڈان میں فلسطینی تحریک حماس کے تمام اثاثے ضبط

فنڈز کی منتقلی بند،تحریک کے لیےکام کرنے والی کمپنیوں اورافراد کے اکاؤنٹس بھی منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں حکام نے اپنی سرزمین پر فلسطینی تحریک ’حماس ‘کے تمام اثاثے ضبط کرلیے ہیں،اس تحریک کو فنڈز(رقوم) کی منتقلی روک دی ہے اور اس کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں۔

حکام نے جمعرات کی صبح سوڈان کی سرزمین پر غزہ کی حکمراں ’حماس‘کے تمام اثاثے ضبط کرنے کااعلان کیا ہے۔ سوڈانی حکام نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے حماس مخالف اس سرکاری اقدام کی تصدیق کی ہے۔

رائیٹرز کے مطابق سوڈان میں حماس کے اثاثے اور جائیدادیں کئی دہائیوں سے اس کی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم وسیلہ رہی ہیں۔سوڈان میں اس تحریک کے اثاثوں میں ہوٹل، رئیل اسٹیٹ، کثیرالمقاصد کمپنیاں، اراضی اورکرنسی کے تبادلے کے کاروبارشامل تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے 23 اکتوبر2020ء کو امریکا کی ثالثی اور سرپرستی میں صہیونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔

اس سرکاری اعلان سے قبل جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیرقیادت ملک کی عبوری حکمران خودمختارکونسل نے کہا تھا کہ امریکا کے (سابق) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوڈان کا نام ’’دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں‘‘ کی فہرست سے حذف کرنےکے فیصلے پردست خط کردیے ہیں۔