.

مآرب میں جاری لڑائی کے دوران 2 ہزار یمنی بچوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کے ایک سینیر عہدیدار نے بتایا ہے کہ مآرب گورنری میں حالیہ مہینوں کےدوران ہونے والی لڑائی میں کم سے کم دو ہزار یمنی بچے مارے گئے ہیں۔ ان بچوں کو ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے جنگ کے لیے بھرتی کر رکھا تھا جو جنگ کا ایندھن بن گئے۔

اقوام متحدہ میں یمن کے نائب مندوب مروان نعمان نے کہا کہ سنہ 2014ء سے اب تک حوثی ملیشیا نے جنگ کے لیے 35 ہزار بچوں کو بھرتی کیا۔ ان میں سے 17 فی صد بچوں کی عمریں11 سال سے کم تھیں۔ ان میں سے 6700 بچوں کو حوثی ملیشیا کی طرف سے باقاعدہ جنگی محاذوں پر تعینات کیا گیا۔

یمن کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق یہ بات یمن کی مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران سامنے آئی جو یورپی یونین ، بیلجیم اور نائیجر کے زیراہتمام منعقد ہوئی۔

مروان نعمان نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے اسکولوں، مساجد اور گرمائی کیمپوں کو بچوں کی جنگ کے لیے ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حوثی ملیشیا کی طرف سے جنگ کے لیے ساٹھ ہزار بچوں کی ذہن سازی کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے نئی نسل کے ذہن خراب کرنے کے لیے اپنے زیرتسلط علاقوں میں تحریف شدہ نصاب تعلیم جاری کیا جس کے نتیجے میں نئی نسل میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔