.

التیفور کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملہ، ایران نواز عناصر ہلاک اور 6 شامی فوجی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق جمعے کی شام اسرائیلی جنگی طیاروں نے حمص کے مشرقی دیہی علاقے میں التیفور کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں شام میں ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کے ارکان ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ التیفور کے ہوائی اڈے پر ایرانی ملیشیاؤں کے گودام اور ڈرون طیاروں کا اڈہ موجود ہے۔

جمعے کے روز شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ اسرائیل نے التنف کے علاقے میں التیفور کے فوجی ہوائی اڈے کی سمت حملہ کیا۔ اس کے نتیجے 6 شامی فوجی زخمی ہو گئے اور مادی نقصان بھی پہنچا۔ ایجنسی نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شامی فضائی نظام نے دشمن کے زیادہ تر میزائل مار گرائے۔

المرصد گروپ کے مطابق شام کے وسط میں اور مشرق میں زور دار دھماکے سنے گئے جو غالبا اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہوئے۔

التیفور ہوائی اڈہ۔ فائل فوٹو
التیفور ہوائی اڈہ۔ فائل فوٹو

گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے اپنے ماسکو کے دورے کے دوران میں کہا تھا کہ ایران کی موجودگی تک شام میں استحکام نہیں آ سکتا۔ اسرائیلی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل شمالی سرحد کے نزدیک ایران کے قدم جمانے کے سامنے ہاتھ باندھ کر نہیں رہے گا۔

شامی اراضی میں اسرائیل سے منسوب فضائی حملوں کے پس منظر میں روس اور اسرائیل کے تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا۔ روس کے نزدیک مذکورہ حملے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو نشانہ بنانا ہے جو ماسکو کی حمایت یافتہ ہے۔

اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" نے گذشتہ ماہ ستمبر میں بتایا تھا کہ شام میں اسرائیلی حملوں پر روس ناراض ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط نے 24 جولائی کو باخبر روسی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ شام میں اسرائیل کے حوالے سے ماسکو کا صبر ختم ہو رہا ہے اور روس شام میں اسرائیلی فضائی حملوں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔