.

’داعش‘ نے مال کیسے جمع کیا؟ البغدادی کے نائب نے اہم راز اگل دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے بانی مقتول ابو بکر البغدادی کے نائب ’ سامی جاسم محمد جعاطہ العجوز الجبور‘ المعروف ’حاجی حامد‘ نے عراقی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد دوران تفیش کئی اہم راز اگل دیے ہیں۔ ان اہم سربستہ رازوں میں داعش کے مال بٹورنے کے ذرائع اور حربوں کے بارے میں اعترافات بھی شامل ہیں۔

عراقی سیکیورٹی فورسز نے داعش کے گرفتار ’فنانسر‘ اور مالی امور کے سابق سربراہ سے پوچھ تاچھ کی جس میں اس نے بتایا کہ سنہ2014ء کے دوران میں عراق اور شام کے وسیع علاقے پر اپنی سلطنت قائم کرنے والی ’داعش‘ نے تین سال تک کیسے لوگوں سے ٹیکسوں کی آڑ میں بھتہ وصول کیا۔

حجی حامد نے دوران تفتیش ’داعش‘ نے پیسے کے انتظام کے طریقہ کار اور اقتصادی تنظیم کے وسائل کے بارے میں بات کی۔ اس نے بتایا کہ جب اس نے داعش کے بیت المال کا انتظام سنھبالا اس کے بعد تنظیم اپنے مالی وسائل کیسے حاصل کرتی تھی۔

رائلٹی اور تیل کی اسمگلنگ

حجی حامد نے انکشاف کیا کہ داعش کس طرح نینویٰ میں تاجروں اور امیر لوگوں سے پانچ لاکھ ڈالر ماہانہ وصول کر رہی تھی؟ وہ لوگ جنہوں نے موت کا سامنا کرنے سے گریز کیا۔

داعش کے گرفتار کمانڈر کے اعترافات عراقی اخبار "القضا" میں شائع کیے ئے ہیں۔ اس میں اس نے بتایا کہ کس طرح تنظیم کی دیوان الرکاز (تیل کی اسمگلنگ) میں کام کے دو سال کے دوران ایک چوتھائی بلین ڈالر سے زیادہ کی درآمدات ہوئیں۔ یہ رقم کو سالانہ کی بنیاد پر داعش کے بیت المال میں جمع کیا جاتا تھا۔

حامد کے اعترافات کے مطابق تنظیم کے بجٹ میں 2016 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد250 ملین ڈالر اور 3 ٹن سونا تھا جو بیت المال کے متعدد ملازمین کی کمان میں گھروں اور سرنگوں میں ذخیرہ اور رکھا کیا گیا تھا جن میں سے زیادہ تر تیل کی برآمدات سے اور’مال غنیمت‘ داعش کی نام نہاد خود ساختہ ریاست کی سرحدوں سے باہر کی جانے والی لوٹ مار، رائلٹیز، تاجروں کو تاوان کے لیے اغوا اور دیگر ذرائع سے حاصل کی جاتی تھی۔

اس نے انکشاف کیا کہ عراقی تیل فیکٹریوں اور چھوٹی ریفائنریوں کے انفرادی مالکان کو فروخت کیا جا رہا تھا، جب کہ کچھ حصہ بیرون ملک اسمگل کیا جاتا تھا۔ دوسرا حصہ بلیک مارکیٹ میں شام میں زیر کنٹرول زمینوں کے اندر بندرگاہ کے ذریعے 180 فی ٹن کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا۔

افسران کے نام

حجی حامد 2014 کے موسم گرما میں البغدادی کے قریب رہا تھا۔ اس وقت داعش نے وسطی اور مغربی عراقی صوبوں پراپنے اسٹریٹجک حملے شروع کیے۔ اس نے اعتراف کیا کہ تنظیم کے سربراہ نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ریاستی اداروں، امیروں کے گھروں، ہتھیاروں کی دکانوں، فوجی سازوسامان اور کمپنی کے فرنیچر پر حملے کریں اور سامان قبضے میں لیں۔

اس نے بتایا ’آئی ایس آئی ایس‘ نے اپنے زیر کنٹرول گورنریوں کی جیلوں میں ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا۔ اس کے بدلے میں سیکیورٹی سروسز کے افسران اور ارکان کے نام حاصل کیے۔ ان کا تعاقب کیا اور انہیں ختم کیا۔

قابل ذکر ہے کہ عراقی شہری الجبوری نے داعش کے اندر کئی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں جن میں "بیت المال"، "آئل ڈیریویٹوز آفیسر"، "رقوم کی تقسیم " اور " بمبار ڈرون طیاروں" کے امور کو بھی شامل تھیں۔