.

’سعودی عرب میں کرونا سے متاثرہ 97 فیصد افراد نے ویکسین نہیں لی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت میں گذشتہ دو ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ 97 فیصد افراد نے ویکسین نہیں لی یا صرف ایک خوراک لی ہے۔

وزارت صحت نے مزید کہا کہ متاثرہ افراد میں سے 65 فیصد کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے ہیں۔ان میں سے 32 فیصد کو ایک خوراک دی گئی جبکہ متاثرہ افراد میں سے 3 فیصد کو دو خوراکیں دی گئی ہیں۔

وزارت صحت نے کرونا کی تبدیل ہوتی شکلوں کے اثرات کو روکنے اور وائرس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے کرونا ویکسین کی دو خوراکیں لینے کا عمل تیزی سے مکمل کرنے پر زور دیا۔ وزارت صحت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کرونا ویکسین کی بوسٹر خوراک لینے میں بھی جلدی کریں۔

اینٹی باڈیز

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حفاظتی ویکسین جسم کے قدرتی دفاع کے ساتھ کام کرکے بیماری کے لاحق ہونے کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب ویکسین لی جاتی ہے تو مدافعتی نظام اس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ جیسے ہی یہ وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے اور اینٹی باڈیز کو پہچان لیتی ہے۔یہ اینٹی باڈیز پروٹین پیدا کرتی ہیں جو قدرتی مدافعتی نظام میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کچھ مطالعات کے مطابق کرونا ویکسین کی عمومی مدت چھ ماہ لہٰذا، بوسٹر یا محرک خوراک ایک ایسی خوراک ہے جو قوت مدافعت کو کم سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے۔