عراق اور کاظمی

عراق : دیالی میں وسیع سیکورٹی آپریشن ، وزیراعظم کا اربیل اور بصرہ کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں مشترکہ آپریشن کمان نے آج بدھ کے روز دیالیٰ صوبے میں ایک وسیع سیکورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مشترکہ آپریشن کے نائب کمانڈر عبد الامیر الشمری کے مطابق یہ آپریشن پیشمرگہ فورسز کے ساتھ رابطہ کاری میں کیا جا رہا ہے۔ آپریشن کے تحت کردستان ریجن کے ساتھ وفاقی ٹکڑیوں کے بیچ خانقین اور کفری کے علاقوں میں سرچ آپریشن عمل میں آئے گا۔

عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق الشمری نے مزید کہا کہ آپریشن میں انسداد دہشت گردی کے ادارے کی فورس اور کردستان کی اسپیشل فورسز شریک ہیں۔ اس دوران میں عراقی فضائیہ اور بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی معاونت بھی حاصل ہے۔

عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان میجر جنرل یحیی رسول یہ بتا چکے ہیں کہ جن علاقوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کی بچی کھچی ٹولیوں کی کارروائیوں کا خطرہ ہے وہاں سیکورٹی مضبوط بنانے کے واسطے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ادھر عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی آج بدھ کے روز اربیل پہنچ گئے۔ وہ داعش تنظیم کے خلاف فوجی آپریشن کی نگرانی کریں گے۔

مسلح افواج کے کمانڈر انچیف الکاظمی نے آج اربیل صوبے میں مخمور ضلع کے اندر سیکورٹی فورسز سے ملاقات کی۔

اعلی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم الکاظمی آج بصرہ صوبے کا بھی دورہ کریں گے۔ یہاں وہ منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد دھماکے کے سلسلے میں جاری تحقیقات کا جائزہ لیں گے۔

گذشتہ روز بصرہ شہر کے وسط میں ایک زور دار دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ ذرائع نے باور کرایا ہے کہ بصرہ کا حملہ ایرانی ساختہ دھماکا خیز مواد کے ذریعے کیا گیا۔ حملے کا نشانہ عراقی انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کا ایک افسر تھا جو ایران نواز ملیشیاؤں کے معاملے پر کام کر رہا ہے۔

وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ کوئی بھی عراقی ریاست کے فیصلے سے بالا تر نہیں اور ریاست کے دائرہ کار سے باہر کوئی اسلحہ نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ سیکورٹی میڈیا سیل نے پیر کے روز تصدیق کی تھی کہ انبار صوبے کے صحرا میں عراقی ایف سولہ طیاروں کی کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں