امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن کا کہنا ہے کہ جہاں تک جوہری بات چیت کی طرف واپسی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ان کے ملک نے ایران کے ساتھ نمٹنے میں سفارت کاری کا راستہ اپنا رکھا ہے۔ اس لیے کہ یہ دستیاب راستوں میں سب سے بہتر ہے۔
آج منگل کے روز انڈونیشیا میں ایک پریس کانفرنس میں بلینکن کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنے حلیفوں اور شراکت داروں کے ساتھ متبادل اختیارات پر بھی کام کر رہا ہے۔
اس سے قبل ایران نے جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مسلسل ملامت کا نشانہ بنانے کا کھیل ،،، کھیل رہے ہیں۔ یہ الزام یورپی سفارت کاروں کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ پیش رفت نہ ہوئی تو جوہری معاہدہ عنقریب "بے سود" یا "بے قیمت" ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے برطانیہ میں گروپ سیون کے اجلاس سے قبل بھی باور کرایا تھا کہ انہوں نے یورپی ممالک کے ساتھ ایرانی جوہری معاہدے پر بحث کی ہے۔ علاوہ ازیں اُن اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی ہے جو مذاکرات کی کشتی ڈگمگانے کی صورت میں آئندہ مرحلے میں لازم ہوں گے۔