جدہ سینٹرل منصوبہ سعودی معیشت اور سیاحت کے لیے نیا سنگ میل ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کل جمعے کے روز "وسط جدہ" (Jeddah Central) کے منصوبے کا اعلان کیا۔ تقریبا 57 لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے اس منصوبے پر 75 ارب ریال کی مجموعی لاگت آئے گی۔ منصوبے کے لیے مالی رقم سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور مملکت کے اندرون و بیرون سے سرمایہ کاروں کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ اقتصادی ماہرین نے اس منصوبے کو سعودی عرب کی معیشت اور سیاحت کے حوالے سے ایک نیا اقتصادی سنگ میل شمار کیا ہے۔

اس سلسلے میں معاشی تجزیہ کار اور لکھاری عبدالرحمن الجبیری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ جدہ شہر میں سرمایہ کاری کے اور اقتصادی لحاظ بڑے امکانات موجود ہیں اور یہ ایک بڑا لوجسٹک زون ہے۔ لہذا یہ منصوبہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے جو سیاحت کے لیے پر کشش ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے بڑے مواقع فراہم کرے گا۔

منصوبے کا مقصد جدہ کے قلب میں ایک عالمی مرکز تیار کرنا ہے۔ اس منصوبے سے 2030ء تک سعودی عرب کی معیشت میں 47 ارب ریال کا اضافہ ہو گا۔ منصوبے میں چار بڑے سنگ میل ہیں۔ ان میں اوپیرا ہاؤس، میوزیم، کھیلوں کا اسٹیڈیم اور ایک مطالعہ گاہِ بحر شامل ہے۔ علاوہ ازیں جدہ سینٹرل میں 10 تفریحی اور سیاحتی منصوبے بھی ہوں گے۔

الجبیری کے مطابق یہ منصوبہ سعودی نجی سیکٹر کے لیے ایک بڑا موقع ہے کہ وہ ترقیاتی پروگراموں اور مجموعی مقامی پیداوار میں اپنی شرکت کو مضبوط تر بنائے۔ علاوہ ازیں یہ سعودی نوجوانوں کے لیے اپنے مستقبل کو درخشاں بنانے کے حوالے سے بھی ایک اہم منصوبہ ثابت ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں