اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کو ایران کے ساتھ جوہری بات چیت میں زیادہ سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔
آج منگل کے روز اسرائیلی فوج کے ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "یقینا ایک اچھا معاہدہ ہو سکتا ہے۔ یقینا ہم معیارات جانتے ہیں۔ البتہ کیا موجودہ حالات میں ایسا ہونے کی توقع ہے ؟ نہیں ... کیوں کہ اس سے زیادہ سخت موقف ہونا چاہیے"۔
بینیٹ کے مطابق ایران انتہائی کمزور موقف کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاہم افوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کا تصرف اس طرح کا ہے گویا کہ وہ ایک مضبوط موقف کی پوزیشن میں ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے کل پیر کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف تنہا کاروائی کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ وہ معاہدے پر دستخط کرنے والے فریقوں کو طویل مذاکرات یا موجودہ معاہدے کے دوبارہ آغاز یا کسی بھی نئے معاہدے کے خطرات سے خبردار کرچکا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ثابت کیا تھا کہ ایران نے فوردو کی تنصیب میں 20% خالص تناسب سے یورینیم کی افزودگی شروع کر دی ہے۔ یہ تنصیب اصل جوہری معاہدے میں ممنوعہ قرار دی گئی تھی۔