.

دو سال کے جمود کے بعد سعودی عرب میں پرائمری اسکول یونیفارم کی فروخت عروج پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں تعلیم اور صحت کی وزارتوں کی جانب سے 23 جنوری 2022 سے شروع ہونے والے پرائمری اور کنڈرگارٹن کی سطحوں میں طلبا اور طالبات کی کی تعلیم دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز سے ملک بھر میں یونیفارم اسٹورز پر اسکول یونی فارم اور دیگر سامان کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے دو سال کے دوران سعودی عرب میں تعلیمی اداروں میں حاضری کے ساتھ طلبا اور طالبات کی آمد ورفت کا سلسلہ معطل رہا ہے مگر رواں ماہ سے تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے اعلان کے بعد جمود کا شکار اسکولوں کی مصنوعات کے کاروبار میں بہتری آئی ہے۔

سعودی عرب کے بازاروں اور دکانوں نے پرائمری اسکول کے طلباء کے لیے مختلف قسم کے اسکول یونیفارم کو نمایاں کیا گیا ہے۔

پیشگی تیاری

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے اسکول یونیفارم کی دکانوں میں سے ایک کے سیلز آفیشل محمد ھوساوی نے کہا کہ کرونا وبا کی وجہ سے دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے جمود کے بعد سعودی عرب میں اسکول یونیفارم کی دکانیں کھل گئی ہیں اور ان میں کاروبار بھی شروع ہوگیا ہے۔ پرائمری اور کنڈرگارٹن کے طلباء کے لیے اسکولوں کے سامان پر گردو غبار پڑ چکا تھا اور یہ کاروباری طبقہ سخت مشکلات سے دوچار تھا۔ جیسے ہی حکومت کی طرف سے اسکولوں میں حاضری کے ساتھ تدریسی عمل کی بحالی کا اعلان کیا تو یونیفارم اسٹوروں اور اسٹیشنری کی دکانوں پر رونقیں بڑھ گئیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسکول کے تہبندوں کی فروخت کی قیمتیں 100 ریال سے شروع 130 ریال کے درمیان ہیں۔ قیمتوں میں کمی بیشی ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے کپڑے کے معیار کی وجہ سے ہے۔

قیمتوں میں اضافہ

دریں اثناء جدہ چیمبر آف کامرس میں ٹیکسٹائل کمیٹی کے رکن اور انٹرپرینیور کمیٹی کے سابق نائب چیئرمین ولید العماری نے وضاحت کی کہ پرائمری سکول اور کنڈرگارٹن کے طلباء کی واپسی کی وجہ سے سکول کی بحالی میں بہتری آئے گی۔ سعودی عرب میں یونیفارم میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اسکول یونیفارم کے لیے مختلف قسم کے مواد موجود ہیں اور وہ اکثر کورین، انڈونیشیائی اور چینی مواد سے تیار ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں