حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے پابند ہیں: بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی ہم منصب انٹنی بلینکن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔

گفتگو کے دوران مشرق وسطی کے امن و استحکام اور خطے میں قیام امن کے لیے دونوں ممالک کے کردار پر بھی بات چیت کی گئی۔

دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان تبادلہ خیال سے پہلے یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد نے جمعرات کی شام یمنی گورنری البیضاء میں بیلسٹک میزائل لانچنگ پیڈ تباہ کیا۔

اتحاد نے حدیدہ میں حوثی ملیشیا کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے فضائی حملے کیے۔ عرب اتحاد کے مطابق بحری قذاقی اور منظم جرائم کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر گورنری کی بندرگاہوں سے اپنی کارروائیاں چلاتا ہے۔

عرب اتحاد نے صنعاء میں شہریوں سے حوثی کیمپوں اور اجتماعات سے دور رہنے اور عسکری مقاصد کے لیے ملیشیا کے زیر کنٹرول کسی بھی جگہ کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ یمنی دارالحکومت میں جائز فوجی اہداف پر فیصلہ کن حملے کیے گئے۔ عرب اتحاد نے کہا کہ فوجی کارروائی خطرے کا جواب ہے اور دشمن کے حملوں کے خطرے کو بے اثر کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے انکشاف کیا کہ حدیدہ کی بندرگاہ حوثیوں کو ایرانی اسلحے کی اسمگلنگ کی شریان ہے اور جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔

حوثیوں نے اسٹاک ہوم معاہدے کا فائدہ اٹھایا جس پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان 2018 کے آخر میں دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کی چھتری تلے رہتے ہوئے حوثی ملیشیا نے بحری جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرات پیدا کیے۔

یمن میں سرگرم عرب اتحاد نے گذشتہ جمعرات کوالحدیدہ میں بحری افواج کے کیمپ میں ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا۔ عرب اتحاد سمجھتا ہے کہ حدیدہ کی بندرگاہ ایک فوجی بیرک ہے جس سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو خطرہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی ہم متعدد گورنریوں میں حوثیوں کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کر رہے ہیں۔ ہم شہریوں کو نشانہ بنانے کے ذمہ دار دہشت گرد رہ نماؤں کا سراغ لگا رہے ہیں اور وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں