اسرائیل کی الٹراآرتھوڈاکس پارٹی کے لیڈربدعنوانی پرپارلیمان کی رکنیت سےمستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں انتہائی قدامت پسند (الٹرا آرتھوڈاکس) یہودکی سب سے بڑی جماعت کے رہنما نے ٹیکس فراڈ کیس میں استغاثہ کے ساتھ سودے بازی کے بعد اتوار کے روز پارلیمنٹ کی رکنیت سےاستعفا دے دیا ہے۔

سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت میں وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے اریح ڈیری اسرائیلی پارلیمان میں نو نشستوں کی حامل شاس پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔شاس 120 ارکان پر مشتمل کنیست میں تیسری بڑی جماعت ہے۔

گذشتہ ماہ ڈیری نے اسرائیل کے اٹارنی جنرل کے ساتھ پلی بارگین کا سمجھوتا کیا تھا۔اس کی رواں ہفتے عدالت میں توثیق کی جائے گی۔اس کے تحت میں وہ ٹیکس کے معمولی جرائم کا اعتراف کریں گے۔

اس معاہدے کے تحت ڈیری جیل جانے سے بچ جائیں گے لیکن ایک لاکھ 80 ہزار شیکل (57 ہزارڈالر) جرمانہ ادا کریں گے اوروہ الکنیست کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے۔

پارلیمان کے ترجمان اڑی مائیکل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈیری نے اتوار کی صبح اسپیکرمیکی لیوی کواستعفے کا خط پیش کیا تھا اوراس کا اطلاق منگل سے ہوگا۔

تاہم توقع کی جارہی ہے کہ ڈیری شاس پارٹی کے بدستور رہ نما رہیں گے جو اسرائیل کے انتہائی آرتھوڈاکس سفاردی یہودیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔یہود کا یہ گروپ آبائی طور پرجنوبی یورپ اورشمالی افریقا سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے آباء واجداد وہاں سے نقل مکانی کرکے اسرائیل میں آبسے تھے۔

شاس نے انتہائی قدامت پسند یہود کی دوسری بڑی جماعت یونائیٹڈ تورات یہودیت کے ساتھ مل کرسابق وزیراعظم نیتن یاہو کی حمایت کی تھی اوراس کی بدولت ہی وہ ریکارڈ مدت 2009 سے گذشتہ سال جون تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر برقراررہے تھے۔

نیتن یاہو کی قانونی ٹیم بھی اٹارنی جنرل کے دفتر کے ساتھ ان کے خلاف مبیّنہ بدعنوانی کیس میں پلی بارگین پر بات چیت کر رہی ہے۔ان پر رشوت ستانی، دھوکا دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں لیکن وہ کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہیں۔

نیتن یاہو کے معاملے میں استغاثہ نے مبیّنہ طور پر اصرار کیا ہے کہ وہ ’’اخلاقی بگاڑ‘‘کا اعتراف کریں۔اس صورت میں وہ سات سال تک کسی منتخب عہدے کے نااہل قرار پاجائیں گے لیکن یہ شرط ڈیری پرعاید نہیں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں