بشار اور شام

عرب لیگ میں واپسی کے لیے شام کی طرف سے اقدامات کے منتظر ہیں: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے عرب لیگ میں واپس آنے اور عرب قومی سلامتی کی حمایت کرنے والا عنصر بننے کے لیے دمشق کی طرف سے مثبت اقدامات کا منتظر ہے۔

شکری نے عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کے ساتھ عمانی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہم اس مقصد کے حصول کے لیے عرب بھائیوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔ ہم شام کی حکومت کے ایسے اقدامات کے منتظر ہیں جو اس کی عرب لیگ میں واپسی کو آسان بنائیں۔"

عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری

شامی حکومت کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے گذشتہ ہفتے اس بات پر زور دیا تھا کہ شام کی حکومت کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی فکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب لیگ ایک ایسا ادارہ ہے جو عرب ممالک کا نمائندہ ہے مگر یہ ادارہ آج تک اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کرسکا۔

الجزائر اس سال اکتوبر یا نومبر کے مہینے میں اپنے اکتیسویں اجلاس میں اگلی عرب سربراہ کانفرنس منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کا اعلان عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے گذشتہ پندرہ جون کو کیا تھا۔

بارہ اکتوبر 2011 کو عرب لیگ نے شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد شام کی رکنیت معطل کردی تھی اور دمشق سے عرب سفیروں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں