الحسکہ میں اتحادی طیاروں کے داعش تنظیم کے جتھوں پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے شام کے صوبے الحسکہ میں الصناعہ جیل کے اطراف داعش تنظیم کے ارکان کو فضائی بم باری کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے بتایا تھا کہ داعش تنظیم کے درجنوں مسلح ارکان ابھی تک الحسکہ کی غویران جیل کے آخری شعبے میں روپوش ہیں۔ ایس ڈی ایف کی جانب سے جیل کا مکمل کنٹرول حاصل کر لینے کے اعلان کے ایک روز بعد فریقین کے بیچ جھڑپ ہوئی ہے۔

ایس ڈی ایف کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز اس کی فورس کے ساتھ لڑائی میں مسلح شدت پسندوں کے دو ارکان مارے گئے۔ مزید یہ کہ 60 سے 90 مسلح افراد الحسکہ میں واقع جیل کے شمالی حصے میں مورچہ بند ہیں۔

ایس ڈیف ایف نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے مسلح عناصر کے حملے کے ایک ہفتے بعد غویران جیل کا مکمل کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ حملہ آوروں نے داعش کے بعض قیدیوں کو فرار ہونے کی اجازت دی اور متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا۔ بعد ازاں ان کی ایس ڈی ایف کے ساتھ مسلح جھڑپ ہوئی۔ اس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔

اس صورت حال کے سبب خود مختار کرد انتظامیہ نے الحسکہ شہر میں کرفیو لگا دیا اور شہر کی ناکہ بندی کر دی۔

ایس ڈی ایف کے مطابق تین روز قبل مذکورہ جیل کے شمالی حصے کو واپس لیے جانے کے واسطے شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد سے تقریبا 3000 افراد نے خود کو حکام کے حوالے کیا۔ مسلح افراد نے ایس ڈی ایف کی پیش قدمی روکنے کے لیے جیل میں موجود بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ جیل میں 3000 سے زیادہ قیدی موجود ہیں جن میں 600 بچے زیر حراست ہیں۔

ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں فریقین کے درجنوں افراد مارے گئے۔ علاوہ ازیں جیل کے اطراف واقع علاقوں سے ہزاروں شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے اندازے کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں 235 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں داعش کے 173 اور ایس ڈی ایف کے 55 جنگجوؤں کے علاوہ کم از کم 7 شہری شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں