سعودی عرب کے جنوبی علاقوں نجران اور المظیلف میں کپاس کی کاشت شروع کی گئی ہے۔
کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ کپاس کے درخت صرف مصر اور دیگر پیداوار اور برآمد کرنے والے ممالک میں اگتے ہیں، جب کہ یہ جنوبی سعودی عرب کے کچھ پہاڑوں میں قدرتی طور پر اگتے ہیں اور یہاں تک کہ اس کی اچھی پیداوار ہوتی ہے۔
ناصر الشدوی ایک تاریخی محقق اور ماحولیاتی کارکن ہیں جو مملکت میں اس قسم کی نایاب کاشت میں دلچسپی رکھتے تھے۔انہوں نے اپنی دادی کے ورثے کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا جو کپاس کے درخت لگاتی تھیں اور اس سے حاصل ہونے والی روئی سے سوت کاتتی تھیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے میں نے "جان فلبی" کی کتاب میں پڑھا ہے کہ نجران اور المظیلف میں بھی کپاس کے درخت لگائے گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی دادی اماں ان سے کہا کرتی تھیں کہ میں نے کسی زمانے میں اپنے گھر کے سامنے کپاس کے درخت لگائے تھے اور میں ان سے روئی بھی حاصل کرتی تھی۔
حیرت انگیز
ناصر کا کہنا ہے کہ میں نےاپنی دادی کے اس تجربے کو دہرانے اور پودے لگانے کا فیصلہ کیا۔ یہ حیرت انگیز تجربہ تھا جو شاندار طریقے سے کامیاب ہوا۔ مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ اسے زیادہ آبپاشی یا دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ کافی، لیموں، انگور، بیر اور انجیر کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے اطراف کے پودوں کو ملنے والا پانی ان کے لیے بھی کافی ہوتا ہے۔ کپاس کے پودوں کی اونچائی چار میٹر تک ہوتی ہے اور وہ پورا سال پیداوار دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خوبصورت بات یہ ہے کہ بہت سے سیاح کھیت میں کپاس کے درختوں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور کہتے ہیں مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ کپاس درختوں سے پیدا ہوتی ہے بلکہ ہم نے سوچا کہ یہ بالکل الگ صنعت ہے۔
الشدوی نے کہا کہ روئی کے درخت کی ایک قسم ہے جو چھوٹا اور زیادہ لمبا نہیں ہے اور یہ جنوبی سعودی عرب کے کچھ پہاڑوں میں قدرتی طور پر اگتا ہے اور وہ اسے "العطب" کہتے ہیں۔