سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے تین روز قبل متعدد افراد کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان افراد نے گمراہ کن سوچ اختیار کی اور انحراف کا راستہ اپنایا۔ سیکورٹی اداروں نے ان مجرمانہ عناصر کو مختلف کارروائیوں میں گرفتار کیا تھا۔
اس سلسلے میں 81 دہشت گردوں کے سر قلم کیے گئے۔ ان افراد میں ہیثم بن ابراہیم المختار کا نام بھی شامل ہے۔ وہ بم تیار کرنے اور انتہا پسند گروہوں کی تشکیل کے حوالے سے معروف تھا۔
سعودی شہریت کا حامل ہیثم کئی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے ملزم ٹھہرایا گیا۔ ان میں سیکورٹی اہل کاروں کو قتل کرنا ، غیر ملکی مقیمین کو زخمی کرنا ، سیکورٹی ادارے کی عمارت کو نشانہ بنانا ، ہنگامہ آرائی اور انارکی پھیلانا اور سرکاری املاک برباد کرنا شامل ہے۔
ہیثم نے سعودی حکام کی جانب سے خود کو حوالے کرنے کی تمام پیش کشیں مسترد کر دی تھیں۔