سعودی عرب میں شمالی سرحدی سیکیورٹی فورسزنے ایک مقامی شہری کو گرفتار کیا ہے جس کے خلاف تین سال قبل اپنی ایک رشتہ دار خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کی شکایت ہے۔
متاثرہ خاتون کی طرف سے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کے بارے میں شکایت کی تھی۔ پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد اس پر کارروائی شروع کی گئی ہے۔
شرطة #الحدود_الشمالية تقبض على مواطن تحرش بفتاة من أقاربه بعد تداول مقطع فيديو في مواقع التواصل الاجتماعي.. إجراءات الاستدلال كشفت عن أن الفتاة خارج #السعودية حالياً وأن الحادثة حصلت قبل 3 أعوام. pic.twitter.com/AuTu0XgCrw
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) March 28, 2022
پولیس نے بتایا کہ لڑکی اس وقت مملکت سے باہر ہے اور یہ واقعہ 3 سال قبل پیش آیا تھا۔ مجاز حکام کو اس وقت اس بارے میں کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی تھی۔
پولیس نے کہا کہ اسے اس کے خلاف تمام قانونی اقدامات اٹھانے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا اور اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا گیا۔
یہ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں ہراسانی کے خلاف نظام ہراساں کرنے کے جرم کی کوشش کرنے والے کو سزا دیتا ہے۔
نظام مكافحة جريمة التحرش.#واس_عام pic.twitter.com/CYgcwv51Yk
— واس العام (@SPAregions) September 24, 2021
ہراساں کرنے کی تعریف جنسی مفہوم کے ساتھ ہر ایک بیان، فعل یا اشارہ کے طور پر کی جاتی ہے، جو کسی شخص کی طرف سے کسی دوسرے شخص کی طرف جاری کیا جاتا ہے جس سے اس کے جسم یا عزت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یا کسی بھی طرح سے اسے چھڑاجاتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
نیزسعودی عرب کے انسداد ہراسانی قانون میں کہا گیا ہے کہ جو بھی ہراساں کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے اسے دو سال سے زیادہ کی قید اور 100,000 ریال سے زیادہ جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکیں گی۔
سعودی عرب نے مئی 2018 میں "انسداد ہراسانی حوالے سے " کا اعلان کیا تھا۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے جاری کردہ ایک شاہی فرمان کے ذریعے جاری کردہ قانون کا مقصد ہراسانی کی روک تھام، اس کے مرتکب افراد پر سزا کا اطلاق اور متاثرہ فرد کی رازداری، وقار اور ناموس کا تحفظ کرنا ہے۔