ایک طرف امریکا اور عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت میں ایران کی طاقت ور فورس سپاہ پاسداران انقلاب کو امریکی پابندیوں سے آزاد کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ دوسری طرف ایران کے اندر سے بھی پاسداران انقلاب کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحب زادی فائزہ رفسنجانی بھی پاسداران انقلاب کو امریکی پابندیوں سے آزاد کرانے کی مخالف ہیں۔
"کلپ ہاؤس" ایپلی کیشن پر ایک ورچوئل روم میں جرات مندانہ گفتگو کرتے ہوئے اصلاح پسند فائزہ رفسنجانی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو امریکی پابندیوں سے نکالنا ایرانی قوم کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاسداران انقلاب کو ان کی بیرکوں میں واپس کرنے کا واحد راستہ اسے پابندیوں کی فہرست میں رکھنا ہے۔"
فائزہ رفسنجانی نے ہفتے کی شام گفتگو میں مزید نے کہا کہ "امریکی پابندیوں کی فہرست سے پاسداران انقلاب کو نکالنا قومی مفاد اور ایرانی معاشرے کے مفاد میں نہیں ۔"
انہوں نے کہا کہ "ایرانی پاسداران انقلاب کی سرگرمیاں دائرہ کار اور مقدار دونوں لحاظ سے روز بروز پھیل رہی ہیں، اس لیے ان کے لیے بیرکوں میں واپس جانا بہت مشکل ہے۔"
ایرانی اصلاح پسند رہ نما نے مزید کہا کہ شاید واحد چیز جو ’آئی آر جی سی‘ کو بیرکوں میں واپسی کو ممکن بنائے گی، وہ امریکی پابندیوں کا تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان پابندیوں کو منسوخ کرنے کے خلاف ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "شاید ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک حصہ ایران کے خلاف پابندیاں جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ جان بوجھ کر پاسداران انقلاب کو پابندیوں کے دائرے میں رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔"