سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایک ویڈیو کلپ کے بڑے پیمانے پرمقبول ہوا ہے جس میں ایک لڑکی کو اپنی ساتھی کو مکے اور لاتیں مارتے دکھایا گیا ہے۔ اس واقعے نے سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑادی اور ریاض شہر کی پولیس کو واقعے کی انکوائری کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔
پولیس جنرل کمانڈ نے ویڈیو میں حملہ آور لڑکی کی شناخت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مجاز حکام تشدد کرنے والی لڑکی کی شناخت کرنے اور اس کے خلاف قانونی اقدامات کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
یہ ویڈیو #girl_violence_her_friend کے ہیش ٹیگ کے ساتھ وائرل ہوئی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شہریوں نے ساتھی کو تشدد کا نشانہ بنانے والی لڑکی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ چند سیکنڈز میں ایک لڑکی کے دل دہلا دینے والے مناظر دکھائے گئے جو اچانک اپنے سہیلی کی مار پیٹ اور گھونسوں سے حملہ کر رہی تھی، جب کہ دیگر لوگ اسٹینڈ جیسی جگہ پر بیٹھ کر تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ وہ لڑکی کو بچانے کے بجائے قہقے لگا رہے تھے۔
جب کہ تشدد کا شکار لڑکی جوابی وار کرنے کے بجائے اپنے چہرے کو شدید گھونسوں اور ضربوں سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔