سینکڑوں یہودی آبادکاروں نے اتوار کی صبح مسجد اقصیٰ پر حملہ کر دیا جس کے بعد اسرائیلی پولیس نے الرحمہ جائے نماز بند کر کے مسجد قبلی میں نماز ادا کرنے والے فرزندان توحید کو محاصرے میں لے لیا۔
القدس سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے اتوار کی صبح اسرائیلی پولیس کے سخت سکیورٹی میں 500 یہودی آبادکاروں نے مراکشی دروازے کی سمت سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔ اسرائیلی پولیس نے القبلی جائے نماز کی تالا بندی کرتے ہوئے اندر موجود نمازیوں اور معتکفین کو حصار میں لے لیا۔ اس دوران باب السلسلہ سے 10 نوجوانوں کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
انتشار كثيف للقوات الإسرائيلية في القدس قبيل "مسيرة الأعلام".. والفلسطينيون يتوافدون على المسجد الأقصى لمنع اقتحامه#العربية pic.twitter.com/1sIbIwj4lb
— العربية (@AlArabiya) May 29, 2022
القدس کے مقامی ذرائع کے مطابق یہودی آبادکاروں نے حرم قدسی پر گروپوں کی شکل میں حملہ کیا، ہر گروپ 40 انتہا پسندوں پر مشتمل تھا۔ انہوں نے اشتعال دلانے کے انداز میں حرم قدسی میں گشت کیا۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہودی آبادکاروں نے پہلی مرتبہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں ’’خصوصی سجدے‘‘ ادا کیے۔ ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن اور باب السلسلہ سے 10 فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ ایک عمر رسیدہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے مسجد اقصیٰ سے نکال دیا گیا۔
خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ فلسطینی خاتون پر تشدد کے نتیجے میں ان کے جسم پر نیل کے نشان اور فریکچر کی شکایت دیکھی گئی۔