ایران سے جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں: بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے معاہدے پر عمل درآمد کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔

بوریل نے "ٹویٹر" کے ذریعے اپنی ٹویٹس میں کہا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان کے ساتھ دوبارہ بات کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اضافی کوشش کرنے کا امکان اب بھی موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک رابطہ کار کے طور پر میں جوہری مذاکرات میں دیگر حل طلب مسائل کے حل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ادھر ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روسی مندوب میخائل الیانوف نے کل ہفتے کے روز کہا کہ اگر عالمی توانائی ایجنسی مغربی ممالک کی ایران کے خلاف پیش کی قراردار منظور کی تو ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ویانا مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اس صورت میں مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔

الیانوف نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی حل پر زور دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یورپ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے تو زیادہ سفارتی کوشش کرے۔

جمعے کے روز ایرانی وزیر خارجہ عبداللہیان نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران ایرانی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت کی تھی۔

ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والی بات چیت گذشتہ مارچ سے معطل ہے۔ تہران کی جانب سے پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکالنے پر اصرار کیا گیا تھا مگر امریکا نے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ سے نہیں نکالا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں