مشرق وسطی میں نیٹو جیسے فوجی اتحاد کی حمایت کریں گے: شاہ اردن

ممکنہ فوجی اتحاد کا چارٹر واضح ہونا ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کے شاہ عبداللہ نیٹو کے طرز پر مشرق وسطی میں بھی فوجی اتحاد قائم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں اس بارے میں یہ بھی کہا، ایسے فوجی اتحاد کا چارٹر بہت واضح رکھنے کی ضرورت ہوگی۔

اردن کے فرمانروا نے اس امر کا اظہار جمعہ کے روز 'سی این بی سی' کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے اگر نیٹو جیسا فوجی اتحاد وجود میں لایا جاتا ہے تو وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جو سب سے پہلے اس کی تائید کریں گے۔ لیکن ضروری ہے کہ یہ پوری دنیا پر محیط ہو، نیز بڑا واضح ہو کہ ہم اس میں کیسے آئیں گے اس اور ہمارے لئے یہ کیا اور کیسے کرے گا۔ بصورت دیگر یہ ہر ایک کو کنفیوز رکھے گا۔

خیال رہے اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان فوجی تعاون کا تصور امریکہ نے کئی سال پہلے سے دے رکھا ہے تاکہ ایران اور اس کے منفی عزائم کا مقابلہ مل کر کیا جاسکے۔

اب اسی ماہ جون میں امریکی قانون سازوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس طرح کے بل پیش کئے ہیں جو مشرق وسطے میں عربوں اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی دفاعی نظام کی تشکیل کا باعث بن سکے۔ ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ام مسودہ ہائے قانون میں ایرانی ڈرون طیاروں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے علاوہ خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی جانوں کو محفوظ رکھنا بھی ہدف ہے۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں یہ بل الگ الگ پیش کئے گئے ہیں مگر ان کی تھیم ایک جیسی ہے۔ ایوان نمائندگان میں پیش کیا مذکورہ بل ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن دونوں طرف کی قانون سازوں نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے۔ صدر جو بائیڈن سے محض چند ہفتے پہلے قانون سازی کا یہ ڈول ڈالا جانا اہم ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے ایک سرکاری ذمہ دار نے اس بارے میں کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کسی نام کے بغیر پہلے سے ہی ایک بے نامی قسم کا دفاعی تعاون موجود ہے جو ایرانی حملوں کا ناکام بھی بنا چکا ہے۔

اب جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ مشرق وسطی کے دورے پر آرہے ہیں تو ایران کی طرف سے خطے کو درپیش خطرے اور اس کا تدارک ایک اہم ایشو ہے۔ جو بائیڈن اسرائیل سے ہو کر سعودی عرب جائیں گے۔ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ملیں گے۔ خطے میں بطور امریکی صدر ان کی پہلی آمد ہوگی۔

بظاہر وہ اسرائیل اور عرب ممالک کے لئے ایرانی خطرے کا توڑ معاہدہ ابراہیم سے جوڑتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہی۔ اس معاہدہ ابراہیم کی وجہ سے اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان کافی تبدیلی آچکی ہے۔ اس لئے عرب اسرائیل قربت اور تعاون کی راہیں کھولنے کے لئے معاہدہ ابراہیم کو کافی اہم سمجھا جارہا ہے۔

امریکی حکام میں سے ایک نے پچھلے ہفتے رپورٹرز کو بتایا کہ صدر کے دورہ مشرق وسطی میں منفرد نوعیت کی چیزیں آگے بڑھیں گی ۔ بشمول نیول ٹاسک فورس، اور دفاعی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں