اسرائیل کے مقبوضہ شہر بیت المقدس(یروشلم) میں ہفتے کی صبح ہزاروں فلسطینی مسلمانوں نے اپنے قبلۂ اوّل مسجد اقصیٰ میں عیدالاضحیٰ کی نمازادا کی ہے۔
سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں ہفتہ کوعیدالاضحیٰ منائی گئی۔مکہ مکرمہ میں مسجدحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ میں نمازِعید کے بڑے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے ہیں۔
شاہی خاندان کے ارکان،علما و شیوخ نے مسجدحرام میں نماز عید میں شرکت کی۔سعودی عرب میں نمازِعید کے اجتماعات کے موقع پرکرونا وائرس سے بچاؤ اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کیا گیا۔
اس موقع پر اسلام کی سر بلندی، امتِ مسلمہ کی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عید کے موقع پراپنے خطاب میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو مبارک باد دی ہے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک ،ترکی، بھارت، افغانستان میں بھی آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے سے منائی گئی ہے اور اس کے بعد مسلمان حلال جانور اللہ کی راہ میں قربان کررہے ہیں۔
ترک صدر طیب ایردوان نے امت مسلمہ کو عید کی مبارک باد دیتے ہوئے دعا کی ہے کہ یہ بابرکت ایام رحمتیں لائیں اورہمارے مظلومین کی نجات کا ذریعہ بنیں۔دوسرے اسلامی ممالک کے قائدین نے بھی عید کے موقع پراہلِ اسلام کومبارک باد کے پیغامات دیے ہیں اور ان کے بہترمستقبل کی دعا کی ہے۔پاکستان میں اتوار کوعیدالاضحیٰ روایتی مذہبی جوش و خروش سے منائی جارہی ہے۔
سنتِ ابراہیمی
دنیا بھرمیں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان اسلامی تقویم کے آخری مہینے ذی الحجہ کی دس تاریخ کوعیدالاضحیٰ مناتے ہیں اورنمازِعید کے بعد اللہ کی راہ میں امام الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پرعمل پیراہوتے ہوئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جانور قربان کرتے ہیں۔
اس سے ایک روزپہلے نوذی الحجہ کو لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ کے نواح میں واقع میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ ادا کرتے ہیں۔اس سال قریباً دس لاکھ فرزندان توحید نے حج ادا کیا ہے اور وہ آج منیٰ میں شیطان کو کنکریاں ماررہے ہیں اور جانورقربان کررہے ہیں۔
عیدالاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قرآنی کہانی کی یادگار ہے جس کے مطابق وہ اللہ کے حکم پر اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے پر تیارہوگئے تھے مگراس سے پہلے کہ وہ ان کی قربانی انجام دیتے اور ان کے گلے پر چھری چلاتے، اللہ نے قربانی کے طور پر ایک مینڈھا جنت سے بھیج دیا تھا۔
عیسائی اور یہودی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کواپنے دوسرے بیٹے اسحاق کوذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن اسلامی روایت ودرایت کے مطابق اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔
عیدالاضحیٰ پرکروڑوں مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں حلال مویشی ذبح کرتے ہیں اور اس کاگوشت خاندان، دوستوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے ہیں۔اس طرح وہ معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں۔
اس سال یوکرین میں روس کی جنگ نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔اس کی وجہ سے مشرقِ اوسط میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ رسمی قربانی کے لیے مویشیوں کی خریداری کے متحمل نہیں رہے ہیں۔
زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافے اور ہوشربامہنگائی نے بہت سے مقامات پر اس مرتبہ بکریوں، گائے،بیل اور بھیڑوں کی تجارت کو کم کردیا ہے اور قربانی کے جانوروں کی منڈیوں میں خریدوفروخت میں روایتی جوش وخروش ماندپڑتا نظرآیا ہے۔